Ghaza Ki Berberiyet… by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
ڈاکٹر عامر عزیز ایک اعلیٰ پائے کے آرتھوپیڈک سرجن ہی نہیں‘ نہایت پکے پاکستانی اور انتہائی سرپھرے مسلمان بھی ہیں جو پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کے نوے فیصد مسائل کا منبع امریکی اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیتے ہیں۔ 2002ء میں ڈاکٹر عامر عزیز کو امریکی ادارے ایف بی آئی نے لاہور سے اٹھایا اور ایک طویل عرصہ اپنا ’’مہمانِ خاص‘‘ بنائے رکھا۔ اس کام میں ایف بی آئی کو چند مقامی خفیہ اداروں کی معاونت بھی حاصل تھی۔ یہ ادارے ڈاکٹر صاحب سے اسامہ بن لادن کا پتہ پوچھنا چاہتے تھے اور اس مقصد کے تحت ان پر ہر وہ طریقہ آزمایا جو ٹارچر اور تشدد کی آفاقی کتاب میں موجود تھا۔ ڈاکٹر عامر کا قصور یہ بتایا گیا کہ آپ اسامہ بن لادن کے معالج رہے ہیں اس لئے یقینا اس کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہوں گے۔ یہ مشرف کے سیاہ دور کا ابتدائی عرصہ تھا جن میں ہم نے بھی ڈاکٹر صاحب کی گمشدگی کا حسبِ توفیق ڈھنڈورا پیٹا۔ ’’حسبِ توفیق‘‘ والے توفیق بٹ نے اس دوران ڈاکٹر صاحب کے معاملے کو میڈیا میں زندہ رکھا‘ حالانکہ بٹ بہادر خود سرکاری ملازم ہیں۔ تاہم یہاں یہ بتانا بھی ازحد ضروری ہے کہ توفیق جیسے بٹ ہر دور میں ہی اُڑتے تیر ’’بغل‘‘ میں لیا کرتے ہیں اور یہ سلسلۂ بغاوت آج بھی جاری و ساری ہے۔ خیر‘ توفیق بٹ کی آشفتہ سری بارے کالم پھر کسی روز پھڑکائیں گے‘ فی الحال ہماری توجہ کا مرکز ڈاکٹر عامر عزیز ہیں۔ ہم موصوف کے بارے میں سینہ گزٹ کے ذریعے بہت کچھ معلوم کرتے چلے گئے مگر ہماری اشتہا وہیں کی وہیں موجود رہی۔ ڈاکٹر صاحب ضرورت سے کہیں زیادہ مصروف واقع ہوئے ہیں جبکہ ہم اسی تناسب سے ہڈحرام۔ چنانچہ انکی داستانِ حیات خود انکی زبانی سننے کا اتفاق کبھی نہ ہو سکا۔ بالآخر ہم نے ڈاکٹر عامر عزیز کو گوگل کی طلسماتی دنیا میں تلاش کیا اور تقریباً دو گھنٹے میں ہمیں ان کے بارے میں اتنا کچھ معلوم ہو چکا تھا جتنا کہ ہم پندرہ سولہ سال کی شناسائی میں بھی نہ جان سکے۔ ڈاکٹر صاحب ہماری کرکٹ ٹیم کے فزیو بھی رہ چکے ہیں۔ نوے کی دہائی کے وسط میں ڈاکٹر صاحب کو نجانے کیا سوجھی کہ جنگ زدہ مسلمانوں کا علاج معالجہ کرنے کوسوو جا پہنچے۔ یہ انکی زندگی کا اہم ترین موڑ ثابت ہوا۔ مسلمانوں کی حالتِ زار اور اقوامِ مغرب کی بے حسی نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آپ پاکستان واپس آئے تو آتے ہی طالبان کیلئے ہیلتھ کیئر کا ایک جامع منصوبہ تیار کرکے اس پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ ایف بی آئی کو شک تھا کہ ڈاکٹر صاحب طالبان کی مالی اعانت بھی کرتے ہیں۔ یہ بات ہمارے حلق سے نہیں اتر رہی تھی کہ محض اسامہ کا علاج کرنے کی پاداش میں ڈاکٹر عامر عزیز کے ساتھ یہ بدسلوکی روا رکھی گئی‘ جبکہ طالبان کے ساتھ ان کے لمبے چوڑے مراسم کا ثبوت نہ تو ایف بی آئی کے پاس تھا اور نہ ہی مقامی ایجنسیوں کے پاس۔
گیارہ ستمبر کے بعد قائم ہونے والا ادارہ ’’ہوم لینڈ سکیورٹی‘‘ بنیادی طور پر ایک گھبراہٹ زدہ اور پریشان حال ادار ہ ہے۔ ناموں کی مماثلت اسے بیحد پریشان کرتی ہے۔ گیارہ ستمبر سے کچھ ہی عرصہ بعد ہم نے ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا ’’ویئر از اسامہ بن لادن؟‘‘ (اسامہ بن لادن کہاں ہے؟) اسی دوران تحقیق کرتے ہوئے ہماری نظر سے انتہائی مطلوب افراد کی ایک فہرست گزری جن میں ایک نام ڈاکٹر عامر عزیزی بھی شامل تھا۔ اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ یہ لندن سمیت یورپ کے مختلف شہروں میں رہ چکا ہے۔ القاعدہ سے اس کے گہرے مراسم ہیں اور یہ یورپ میں بڑے پیمانے پر تباہی کی پلاننگ کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت ہم نے اس نام پر زیادہ دھیان نہ دھرا مگر جب چند ماہ بعد ڈاکٹر صاحب پر ایف بی آئی نے اپنا ’’سایہ شفقت‘‘ پھیلانا شروع کیا تو ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ ہم نے ایک بار پھر مذکورہ ویب سائٹ پر جانے کی کوشش کی تو نہ صرف وہ فہرست بلکہ پوری کی پوری ویب سائٹ ہی غائب ہو چکی تھی۔ یہ غالباً 2005ء یا شاید 2006ء کی بات ہے کہ ہمارے ایک محترم بزرگ چودھری اشرف‘ سابق چیف سیکرٹری آزادکشمیر‘ امریکہ سے واپس آتے ہوئے ہمارے لئے تین خوبصورت کتابوں کا تحفہ لیتے آئے۔ ان میں سے ایک کا ذکر ہم دو سال قبل اپنے کالم میں کر چکے ہیں۔ دوسری کتاب کا نام تھا‘ ’’شیڈو وار‘‘ (SHADOW WAR) نیویارک ٹائمز نے اس کتاب کو بیسٹ سیلر قرار دیا جبکہ اسی مصنف‘ یعنی رچرڈ مینیٹر (RICHARD MINITER) کی ایک اور کتاب ’’لُوزنگ بن لادن‘‘ (LOSING BIN LADEN) پہلے ہی شہرتِ دوام حاصل کر چکی تھی۔ کتاب پڑھتے پڑھتے ابھی ہم صفحہ نمبر سات پر ہی پہنچے تھے کہ سپین میں ریل گاڑیوں کی تباہی کے حوالے سے کچھ اس قسم کی بات درج تھی۔
’’ہسپانوی پولیس نے چند دن کے اندر اندر بیشمار گرفتاریاں کرکے ایک بہت بڑا نیٹ ورک بے نقاب کر دیا۔ گرفتار شدہ مقامی رِنگ لیڈر نے بتایا کہ اس کی ملاقات ترکی میں عامر عزیزی نامی شخص سے ہوئی جس نے اسے اس مشن کا انچارج بنایا۔ عامر عزیزی القاعدہ کا کمانڈر ہے جس نے گیارہ ستمبر کی پلاننگ میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا۔ میڈرڈ‘ سپین والی تباہی کے تمام کردار موت سے ہمکنار ہو چکے ہیں البتہ عامر عزیزی تاحال مفرور ہے!!‘‘
گوکہ ویب سائٹ میں درج نام کے برعکس کتاب میں عامر عزیزی کے ساتھ ڈاکٹر کا سابقہ موجود نہیں تھا مگر نجانے کیوں ہمارا دھیان بار بار اپنے ڈاکٹر عامر عزیز کی طرف ہی جاتا رہا۔ ظاہر ہے کہ ڈاکٹر صاحب پر ایف بی آئی کی نظرِ کرم کی فوری وجہ تو ان کا بن لادن کے ساتھ علاج معالجے کا تعلق ہی ہو گا مگر‘ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سپر کمپیوٹر نے ڈاکٹر عامر عزیز اور مفرور عامر عزیزی کی مماثلت پر بھی یقینا خوب اُدھم مچایا ہو گا۔ ہم ایک مرتبہ یہ انکشاف کرنے کیلئے ڈاکٹر صاحب سے ملنے ایک مقامی ہسپتال بھی گئے مگر اتفاق سے اس روز ڈاکٹر صاحب موجود نہیں تھے۔ ہم نے سوچا کہ اب یہ سنسنی خیز سرپرائز بذریعہ کالم ہی دیں گے مگر اتفاق دیکھئے کہ اس دوران مشرف کے کارناموں نے ہمارے قلم کو اس قدر انگیج کئے رکھا کہ اتنی اہم بات لکھنے کا بھی موقع نہیں ملا۔
بہرحال زیرِنظر تحریر کا متحرک بھی محبی توفیق بٹ ہی بنا۔ گذشتہ روز اس نے فون پر مطلع کیا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے چند ساتھی ڈاکٹروں کے ہمراہ غزہ تشریف لے گئے تھے جہاں پر اسرائیلی بربریت کا شکار سینکڑوں زخمیوں کا علاج کرکے وطن واپس آئے ہیں۔ ان کے ہمراہ تین مریض بھی ہیں جن میں ایک چھ سالہ بچہ ہے جس کی ریڑھ کی ہڈی میں بم کا ٹکڑا پیوست ہے۔ ڈاکٹر عامر عزیز ان مریضوں کا آپریشن یہاں کریں گے۔ بٹ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے اور ہمارے اس ہیرو کے اعزاز میں ایک تقریب برپا کر رہے ہیں جس میں ڈاکٹر صاحب اپنے ہاتھوں سے تیار کی گئی ایک لرزہ خیز وڈیو فلم کے ذریعے اسرائیلی درندگی کی داستان سنائیں گے۔
ہم نے سوچا کہ ایف بی آئی کو ڈاکٹر عامر عزیز سے واقعی ڈرنا چاہئے کہ موصوف امریکیوں کا کچا چٹھا خوب کھولتے ہیں!!
Higher Education… by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
ہمارا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم انتہائی اہم نوعیت کے قومی مسائل پر بھی غور نہیں کرتے تفکر نہیں کرتے حالانکہ اگر ہم صرف یہی کام شروع کر دیں تو ان گنت عقدے خودبخود کھلتے چلے جائیں۔ ہم نے اس بات پر کبھی غور ہی نہیں کیا کہ غربت‘ افلاس‘ بھوک اور ناداری میں بھارت ہم سے کہیں آگے ہے۔ دنیا بھر کے 41 فیصد غریب لوگ صرف بھارت میں رہتے ہیں اور یہاں محض غریب لوگوں کا ذکر ہی نہیں ہو رہا بلکہ بدترین غربت زدہ لوگ زیر بحث ہیں۔ ابھی ایک ماہ پہلے ہم نے اپنے کالم میں عرض کیا تھا کہ خوراک کی فی کس دستیابی کے حوالے سے بھارت ایتھوپیا اور سوڈان سے بھی بدتر ہے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں بھارت ہمیں کوسوں پیچھے چھوڑ گیا ہے؟ اس کی وجہ فقط ایک چیز کی فراوانی ہے جس کا ہمارے ہاں فقدان ہے۔ یہ چیز ہے اعلیٰ تعلیم۔ بھارت میں آج آٹھ ہزار چھ سو پچاس یونیورسٹیاں اپنے نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہی ہیں جبکہ پورے امریکہ میں موجود یونیورسٹیوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار ہے اور اگر آپ کو اپنے ملک کی یونیورسٹیوں کی تعداد معلوم ہو جائے تو آپ کا سر شرم سے مزید جھک جائے گا۔ یہ تعداد بمشکل پانچ سو ہے جن میں وہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں جو مختلف شہروں میں واقع چھوٹی چھوٹی کوٹھیوں اور گھروں میں قائم ہیں۔ چنانچہ اس کا شاخسانہ ملاحظہ فرمائیے۔ خلائی تحقیق کے شہرہ آفاق امریکی ادارے ناسا کے 36 فیصد سائنسدان بھارتی ہیں۔ مشہورِ زمانہ کمپیوٹر کمپنی مائیکروسافٹ کے ملازمین میں 38 فیصد تعداد بھارتیوں کی ہے اسی طرح آئی بی ایم کے ملازمین میں 28 فیصد بھارتی ہیں اور انٹیل نامی جدید کمپیوٹر کمپنی میں بھارتیوں کا کوٹہ 17 فیصد ہے۔ اب اگر ان کے برعکس‘ انہی کمپنیوں میں آپ اپنا تناسب دیکھیں تو خواہ مخواہ شرمندہ ہوتے پھریں گے۔ اب ذرا ایک نظر اپنے کرتوتوں پر ڈالئے کہ آپ اپنے یہاں شعبۂ تعلیم کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ وہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن جس پر مشرف نے اربوں روپے نچھاور کر کے اپنے احمقانہ دور کا واحد اچھا کام کیا‘ آج ایک اُجڑے باغ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ کہاں یہ کہ 2006ء میں اس پر 30 ارب روپے خرچ کئے گئے جو کہ ایک طرح کی سالانہ اوسط رقم تھی جو اعلیٰ تعلیم پر خرچ ہوتی تھی اور کہاں آج یہ عالم ہے کہ بیچاری مفلس یونیورسٹیوں کی گرانٹ میں پچاس سے ساٹھ فیصد تک کمی کر دی گئی ہے اور جس سے درجنوں نیم مردہ تعلیمی اداروں کو اب باقاعدہ موت کے گھاٹ اُتارا جا رہا ہے۔
اقتصادی کسمپرسی کے اس عالم میں حکومت نے ان پی ایچ ڈی طلبا کو بھی یکسر فراموش کر دیا ہے جو پچھلے دو سالوں میں سرکاری سکالرشپ پر بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اب یہ بیچارے دیارِ غیر میں خالی جیب اور خالی پیٹ بیٹھے پی ایچ ڈی کا بھوت اپنے سروں سے اُتارنے اور کوئی ڈھنگ کا کام مثلاً ڈرائیونگ یا ڈش واشنگ وغیرہ کرنے کے بارے غور وخوض کر رہے ہیں کیونکہ سرکار نے ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافے اور ملکی معیشت کی زبوں حالی کو بہانہ بنا کر ان بدنصیبوں کو ٹھینگا دکھا دیا ہے۔ چلو مان لیا کہ معیشت کا جو حال ہے اس میں اعلیٰ تعلیم والی ’’فضول خرچی‘‘ برداشت نہیں کی جا سکتی تو کیا ایک نئے اور نہایت عالی شان جی ایچ کیو کی تعمیر برداشت کی جا سکتی ہے؟ تقریباً سو ایکڑ پر پھیلے گورنر ہائوس لاہور کو برداشت کیا جا سکتا ہے جس میں صرف ایک آدمی کو رکھنا مقصود ہے جو کہ اتفاق سے خود بھی اپنے پرائیویٹ گھر میں رہتا ہے۔ آج سے تقریباً بارہ برس اُدھر ہم نے بطور سرکاری ملازم ایک سرسری سا تخمینہ لگوایا تھا کہ اگر لاہور کی مال روڈ پر واقع انتہائی فضول خرچ حد تک پھیلی وسیع و عریض سرکاری عمارتیں‘ دفاتر اور رہائش گاہیں اونے پونے بھی نیلام کر دی جائیں تو ہمارے قومی قرضے کا نصف نہایت آسانی کے ساتھ اتارا جا سکتا ہے۔ ان املاک میں گورنر ہائوس‘ سٹیٹ گیسٹ ہائوس اور ملحقہ سول سروسز اکیڈمی‘ سٹاف کالج اور نوے شاہراہ قائداعظم شامل تھے۔ خیر‘ یہ تو بہت بڑی بات ہے بیچاری قسمت کی ماری ہائرایجوکیشن کو تو ایک بے ضرر اور ہومیوپیتھک سا سالانہ بجٹ درکار ہے۔ اگر ہم کسی نہ کسی طرح ہر سال اس مد میں پندرہ ارب روپے بھی مختص کر دیا کریں تو نہ صرف یونیورسٹیاں اپنے اخراجات بطریق احسن پورے کرتی رہیں گی بلکہ ہر سال درجنوں پی ایچ ڈی پیدا کرتے چلے جانے کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا اور بیچارے ریسرچ سکالرز کو دیارِ غیر میں فاقہ کشی نہ کرنی پڑے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں اعلیٰ تعلیم تو دور دور تک دکھائی نہیں دیتی تو پھر یہ کس طرح پندرہ ارب سالانہ کی عیاشی افورڈ کر سکے گی۔ آخر اس نے اپنے اللے تللے بھی تو جاری رکھنے ہیں۔ تمام حکومتی اکابرین کی سیکورٹی پر بھی زر کثیر وقف کرنا ہے۔ افسروں کے اخراجات برداشت کرنے ہیں۔ ابھی آج ہی کے اخبارمیں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پنجاب کی گاڑیوں کا قصہ بیان ہوا ہے۔ ایک ارب سے زائد مالیت کی تقریباً ڈیڑھ سو گاڑیاں باسٹھ افسروں کی خدمت کیلئے کوشاں بتائی جاتی ہیں۔ ان میں غالباً وہ تیرہ بلٹ پروف گاڑیاں بھی ہیں جو سابقہ دور حکومت میں خریدی گئی تھیں اور جن کے ساتھ موج موجودہ دور حکومت کر رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ گاڑیوں کے پٹرول اور دیکھ بھال پر ہر ماہ لمبی چوڑی رقم خرچ ہوتی ہے۔ بعض افسران کے پاس دو دو اور بعض کے پاس تین تین گاڑیاں بھی ہیں۔ تقریباً یہی حال وزیراعظم ہائوس‘ پریذیڈنٹ ہائوس اور تمام گورنر ہائوسز کا بھی ہے۔ چنانچہ حکومتی احباب سے کسی قسم کی توقع رکھنا عبث ہے۔ قوم کو اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے بھی اپنی جان پر ہی کھیلنا پڑے گا۔ پچھلے دنوں ایک ٹی وی ٹاک میں ہم نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے عرض کیا تھا کہ پاکستان میں تقریباً پانچ کروڑ سموکر یعنی تمباکو نوش موجود ہیں۔ اگر ہر سموکر دن میں صرف ایک سگرٹ کم پینے لگے تو روزانہ پانچ کروڑ روپے کی بچت ہو سکتی ہے جو سالانہ تقریباً سوا اٹھارہ ارب بنتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ رقم ہائر ایجوکیشن کی نذر کردی جاتی۔ یہ باتیں عوام کو اس لئے معلوم نہیں کہ اس قماش کی باتیں صرف لیڈر ہی کیا کرتے ہیں جن پر عوام لبیک کہتے ہوئے بچت کا راستہ اپناتے ہیں۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ لیڈر حضرات خود بھی سادگی اپنا کر مثال قائم کریں۔ لگتا ہے ایسے لیڈر اب آنے پیچھے سے ہی بند ہو چکے ہیں۔ یہ تو صرف سگریٹ کی مد میں بچت کی بات تھی۔ اگر ہم دن میں پٹرول‘ خوردنی تیل اور چائے پر بھی چند قطرے اور چند چمچ بچت کا قصہ چھیڑ دیں تو آپ ورطۂ حیرت میں ڈوب جائیں مگر ہم کیوں بتائیں۔ جائیے اپنے لیڈروں سے پوچھئے جنہیں آپ ہر بار اپنا مسیحا سمجھنے کی حماقت کر بیٹھتے ہیں !
فارگیٹ اِٹ by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
گورنمنٹ کالج کے اس پار دریائے راوی پر نظر پڑی تو دل لہو سے بھر گیا۔ وہ خوبصورت اور دلفریب دریا جس کا نام یونانیوں نے بصد عزت و احترام‘ ’’ہائیڈروٹس‘‘ (Hidrotes) رکھا تھا‘ آج ایک بدبو دار جوہڑ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ آج سے تقریباً 7 سال ادھر ناظم لاہور نے ایک تقریب میں ہمارے سامنے مستقبل کے لاہور کا ایک دلکش نقشہ کھینچا۔ لاہور کو خوبصورت بنانے سے متعلق اس دیومالائی سی گفتگو میں دریائے راوی کا ذکر بھی چل نکلا۔ ناظم نے بتایا کہ راوی سائفین سے لے کر سگیاں پل تک 17 کلومیٹر طویل صاف پانی کی ایک دلربا جھیل بنانے کا ماسٹر پلان تیار ہو چکا ہے جس کے دونوں کناروں پر برج دبئی کی طرز پر جدید اور بلند و بالا عمارات تعمیر کی جائیں گی اور اس علاقے کو لاہور کا بزنس ڈسٹرکٹ قرار دے کر شہر کے ٹریفک میں خاطر خواہ کمی کی جائے گی۔ اس بات میں اس قدر سحر تھا کہ قبلہ مجیب الرحمن شامی پورا ہفتہ‘ عطاء الحق قاسمی پورا مہینہ اور ہم پورا سال اس میں مبتلا رہے۔ انہی دنوں روئیداد خان کی مختصر مگر انتہائی شاندار کتاب ’’اے ڈریم گان ساور‘‘ (A Dream Gone Sour) پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ خانؔ صاحب نے بھٹوؔ کے ذوق و شوق کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب میں چیف سیکرٹری صوبہ سندھ تھا‘ ذوالفقار علی بھٹو ہر ملاقات پر مجھ سے فرمائش کرتے کہ حیدر آباد والی جھیل میں وہ فوارہ نصب کروائو جو جنیوا کی جھیل میں نصب ہے اور جس کی پھوار سوئٹزرلینڈ کی پہچان بن چکی ہے۔ روئیداد خان کہتے ہیں کہ لمبی چوڑی بھاگ دوڑ کے بعد بھی فوارے والا تجربہ کامیاب نہ ہوسکا اور ایک دن بھٹو صاحب نے دلبرداشتہ ہو کر فائل پر یہ لکھ کر کیس کلوز کر دیا‘ ’’فارگیٹ اِٹ‘‘۔ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اگر بھٹو صاحب یہی بات زبانی کلامی کرتے تو کہتے ’’لعنت بھیجو فوارے پر‘‘۔ لاہور کی راوی جھیل کا انجام بھی اس فوارے والا ہی ہوا۔ چنانچہ نہ تو راوی جھیل کا خواب پورا ہوا۔ نہ ’’ماس ٹرانزٹ‘‘ کا منصوبہ سر اٹھا سکا‘ نہ ہی کاہنہ کے قریب ایک نیا قبرستان بن سکا چنانچہ میانی صاحب کے مردوں کو مزید مایوس کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ بیچارے ناظمین تو اب ویسے بھی قصہ پارینہ ہو چکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے ان کے تابوت میں آخری کیل کمشنروں والی ٹھونک دی ہے۔ اس لئے یہ مسکین اب ان خوابوں کا ذکر بھی نہیں کرتے جو مشرف کی بدنیتی اور ان کی سست روی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
آج لاہور کے ایک انتہائی ہونہار ڈیزائنر اور ماہر تعمیرات خالد عبدالرحمن کی باتیں سن کر ایک بار پھر ناظم لاہور کی 7 سال پرانی تقریر یاد آنے لگی۔ خالد صاحب جو پچھلے دنوں دبئی میں ’’واٹر فرنٹ سٹی‘‘ یعنی ’’لب دریا شہر‘‘ کے زیر عنوان ایک بین الاقوامی ورکشاپ سے پورے یورپ اور امریکہ کا فیض سمیٹ لائے ہیں‘ راوی جھیل کے منصوبے پر ازسرنو غور شروع کر چکے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ لاہور کی ٹریفک اور ٹور ازم سے متعلق چند انقلاب آفرین پلان بھی موصوف نے دن رات عرق ریزی کرکے تیار کیا۔ ہم نے یہ خوشگوار خیالات سنے تو دل خوش ہوا کہ شاید لاہور کو سچ مچ بچا ہی لیا جائے۔ اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کی باری آئی تو دھیان فوراً وزیراعلیٰ شہباز شریف کی طرف گیا۔ ہمارے چہرے پر اطمینان کی لہر نمایاں ہوئی کہ شہباز شریف کو بھی لاہور کی فکر اکثر ستاتی رہتی ہے۔ مگر پھر فوراً ہی نااہلی کی لٹکتی تلوار یاد آئی۔ اس مرتبہ ہمارے چہرے پر مایوسی اور غم و غصے کی لہر نمایاں ہوئی۔
ہمیں یقین ہے کہ 7 سال پہلے ہی راوی جھیل والے پراجیکٹ پر کام شروع ہوجاتا تو اب تک یہ مکمل ہو کر لاہور کی خوبصورتی میں اضافہ کر چکا ہوتا۔ مگر اس وقت کی صوبائی حکومت نے ہر معاملے میں اپنا لُچ تلتے ہوئے اس پراجیکٹ کو داخل دفتر کردیا۔ بالکل اس طرح جس طرح موجودہ صوبائی حکومت نے بیچارے ناظمین کو ہی اٹھا کر داخل دفتر کر ڈالا ہے۔ اب اگر بعض پراسرار قوتوں نے شہباز شریف کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا اور ان کی حکومت قائم رہی تو انشاء اللہ یہ جھیل ضرور بنے گی اور اس میں جنیوا جھیل والا فوارہ بھی ضرور نصب ہوگا۔ لیکن اگر شہباز شریف حکومت کو بھی چلتا کیا گیا تو پھر جھیل والا خواب ہمیشہ خواب ہی رہے گا اور شاید اس فائل پر بھی یہی لکھنا پڑے، ’’فارگیٹ اِٹ!‘‘
یہ سہولت بھی بہت محدود مدت کیلئے ہے! by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
ہم نے دیکھا ہے کہ پیر خواہ سچا ہو خواہ جھوٹا‘ اسے اپنے حصے کے مرید بہرصورت مل ہی جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے تاریخ کے بعض بیہودہ ترین شعرائے کرام پر بھی دادوتحسین کے ڈونگرے برستے دیکھ رکھے ہیں۔ اسی طرح سیاستدانوں کیلئے بھی مقلدین کا ایک کوٹہ مختص ہے چنانچہ ہم نے آج تک ایسا ایک سیاستدان بھی نہیں دیکھا جس کا نام ہماری تاریخ میں تو درج ہو چکا ہو مگر اس کے چاہنے والوں کا کوئی حلقہ سرے سے موجود ہی نہ ہو‘ تاہم ایک ہستی ایسی ضرور ہے جو اس کلیئے سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہے کہ ہم نے آج تک ایسا ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو موصوف کی چاہت یا عقیدت تو درکنار سوکھی سڑی پسندیدگی کا ہی اظہار کرے۔ یہ حضرت اپنے ملک غلام مصطفیٰ کھر ہیں اور ہم اس معاملے میں حلف دینے کو تیار ہیں کہ ہم نے نہ صرف کبھی کسی کو انکی تعریف کرتے نہیں سنا بلکہ آپ کا جب جب بھی ذکر ہو ذکر بد ہی ہوا‘ ذکرِ خیر نہیں ہوا۔ لگتا ہے کہ کھر صاحب سے زندگی میں کوئی بہت بڑی بھول ہو گئی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے بجائے کوئی چھوٹا موٹا فین کلب دینے کے الٹا ’’بین کلب‘‘ عطا کر رکھا ہے۔
مشہور مؤرخ سٹینلے والپرٹ کی کتاب ’’زلفی بھٹو آف پاکستان‘‘ پڑھی تو افسوس ہوا کہ مصنف نے بھٹو کے رفقائے کار میں سے بیشتر کا تذکرہ اچھے لفظوں میں ہی کیا ہے جن میں جناب حنیف رامے مرحوم و مغفور بہت نمایاں تھے‘ البتہ مصطفیٰ کھر کا تذکرہ شروع ہوتے ہی سٹینلے والپرٹ کی عمومی فیاضی ختم ہونے لگتی ہے اور وہ آپ کے لتے لیتا چلا جاتا ہے۔ ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم آج تک موصوف سے ملاقات کی ’’سعادت‘‘ تو حاصل نہیں کر سکے البتہ ایک وقت تھا کہ ہم دن میں تین ایسے بزرگ دوستوں سے کم از کم ایک مرتبہ ضرور ملا کرتے تھے جو کسی نہ کسی حوالے سے کھر صاحب کے ’’اوصافِ حمیدہ‘‘ پر وقتاً فوقتاً روشنی ضرور ڈالتے رہتے۔ ان میں سرفہرست جناب حنیف رامے مرحوم و مغفور تھے۔ دوسرے ان کے رفیقِ کار اور کھر کے سابق مشیر میاں اسلم اور تیسرے نمبر پر تھیں تہمینہ درانی‘ جو کبھی تہمینہ کھر ہوا کرتی تھیں۔
عین انہی دنوں بارڈر کے علاقے میں ملک غلام مصطفیٰ کھر کی لمبی چوڑی زمین کا ذکر اخباروں میں ہونے لگا۔ اس ذکر کی تان ہمیشہ اس بات پر ٹوٹا کرتی کہ کھر نے بطور وفاقی وزیر سرکاری وسائل جھونک کر مذکورہ زمین کو قابلِ استعمال بنایا‘ پھر ساتھ ہی ان لاتعداد کتوں کا ذکر ہونے لگا جنہیں ملک صاحب کے ملازمین نہلا دھلا کر سرکاری گاڑیوں کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ منتقل کرتے اور شدید تعفن اور بدبو کے سبب تمام گاڑیاں بعدازاں کبھی استعمال نہ ہو سکیں۔
ایک مضافاتی شاعر کا ایک شعر بے اختیار یاد آنے لگا۔ یہ شعر ہمیں پسند تو اسی دن آ گیا تھا جس دن ایک دوست نے بھری محفل میں سنایا مگر ہمیں اسی لمحے احساس ہو گیا کہ شعر بے وزن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سنانے والے نے اس کے ساتھ یہ ہاتھ کر ڈالا ہو کیونکہ ہمارے یہا ںپڑھے لکھے احباب کا ستتر فیصد اور سیاسی اکابرین کا ننانوے اعشاریہ نو فیصد بے وزن اشعار سناتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں میں وزیراعلیٰ پنجاب واحد مثال ہیں جو شعر وزن میں ہی نہیں‘ بلکہ انتہائی وزن میں سناتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو انکی نعت گوئی اور نعت خوانی ہے اور دوسری وجہ شعیب بن عزیز کی صحبت ہے جو بہت عمدہ شاعر بھی ہیں اور کافی دیر تک شہباز صاحب کے پبلک ریلیشنز کا چارج بھی انہی کے پاس رہا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم گیلانی بھی اگر شعر گھبرا کر نہ پڑھیں تو تقریباً ٹھیک ہی پڑھ جاتے ہیں۔ آجکل چونکہ ہرقسم کی گھبراہٹ کی طرف سے موصوف کو افاقہ ہے‘ اس لئے آجکل ان کے ہاں اشعار کی ادائیگی بھی بہت ’’بے دھڑک‘‘ قسم کی ہو گی۔ البتہ آصف علی زرداری کے بارے میں ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ انکی صحبت اگر میرتقی میر کے ساتھ بھی رہے تو پھر بھی ان کے شعر کی ادائیگی بے وزن ہی رہے گی‘ بلکہ کوئی بعید نہیں کہ انکی صحبت بیچارے میر تقی میر کو ہی ’’بے وزنا‘‘ کر ڈالے۔ سنا ہے قدیم سندھی تہذیب میں لوگ اپنے حریفوں کو بے سُرا گائیک اور بے وزن شاعر ہونے کی بددعا دیا کرتے تھے۔ لگتا ہے آصف زرداری نے پچھلے جنم میں بھی بہت سوں کے ناک میں دم کئے رکھا ہے! خیر یہ شعر ہم نے والدِ محترم قبلہ ظفراقبال صاحب کی خدمت میں برائے مرمت پیش کیا تو آپ نے اسے کچھ یوں کرکے قابلِ استعمال بنا دیا مگر ٹھہرئیے۔ ہم شوقِ آو ارگی میں اصل موضوع سے اس قدر بھٹک چکے ہیں کہ آپکو ایک بار پھر سیاق و سباق سے آگاہ کرنا پڑے گا۔ تو گزارش ہے کہ جیالوں کی ایک تقریب میں ایسا کوئی شخص میسر نہیں ہو رہا تھا کہ جس کے باجماعت لتے لئے جاتے۔ شہباز شریف صاحب کے بارے میں ایک عمررسیدہ جیالے نے اطلاع دی کہ ان کی شان میں گستاخی کم از کم لانگ مارچ یعنی نو مارچ تک منع فرما دی گئی ہے۔ جیالے دل پر پتھر رکھ کر چپ تو ہو رہے مگر پھر خوش قسمتی سے انہیں اس ’’نیک‘‘ کام کیلئے ایک شخصیت مل ہی گئی جس پر اجتماعی تبرے کا ایک لامتناہی دور شروع ہوا اور نہ صرف جیالوں نے دل کی بھڑاس نکالی بلکہ مذکورہ تقریب کو بھی چار چاند لگ گئے۔ ان ذاتِ شریف پر دو چار سطریں ہم بعد میں پیش کریں گے پہلے شعر۔ ؎
دل مرا گرچہ فقط تیرے لئے ہے
یہ سہولت بھی بہت محدود مدت کیلئے ہے
ظاہر ہے کہ یہ محدود مدت نو مارچ تک ہی ہے کیونکہ اس کے بعد جیالے ایک آدھ اننگز پرویزالٰہی کے ساتھ بھی کھیلنا چاہ رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ فریقین پر رحم فرمائے‘ آمین!
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی! by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
گیلانی صاحب کی سربراہی میں موجودہ حکومت جس دن سے اقتدار میں آئی ہے ہمارے ہاں ایک دمڑی کی بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ تھرکول پراجیکٹ پر ایک انچ کی پیش رفت بھی نہیں ہوئی حالانکہ اگر یہ احباب کسی جوگے ہوتے تو اب تک کم از کم ایک ہزار میگا واٹ بجلی تو اس نام نہاد سیاہ سونے سے پیدا کی ہی جا سکتی تھی۔ کرپشن اپنے عروج پر ہے، سوات 80 فیصد سے زیادہ آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ وزرائے کرام کی اکثریت نے ابھی تک اپنی اپنی وزارت کی ہینڈ بک برائے ترکیب استعمال ہی پڑھ کر نہیں دیکھی۔ پنجاب کسی سٹیج ڈرامے کا دلخراش منظر پیش کر رہا ہے جس میں سارے سرکاری مستانے اور طارق ٹیڈی وغیرہ بجز ایک دوسرے پر ’’جگت پانی‘‘ کرنے کے اور کچھ کر ہی نہیں رہے۔ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ابھی تک جاری و ساری ہے۔ مہنگائی میں ایک سینٹی میٹر کمی بھی واقع نہیں ہوئی۔ فرینڈز آف پاکستان کلب کے معزز ممبران شاید چھٹیاں گزارنے کے لئے چار پانچ سال کے لئے کسی اور سیارے پر چلے گئے ہیں اور ان تمام ’’خوشگواریوں‘‘ پر مستزاد دریائی پانی کا مسئلہ آج بھی جوں کا توں، منہ پھاڑے موجود ہے اور اب تو ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ گیلانی صاحب کو معلوم ہی نہیں کہ بھارت اپنے تمام دریائوں کا پانی یکجا کرکے 225 ارب ڈالر مالیت کا ایک میگا ڈیم پراجیکٹ شروع کر چکا ہے جس میں ہمارے یعنی مغربی دریائوں کا چوری شدہ پانی بھی شامل ہوتا چلا جائے گا اور زیادہ دور نہیں، بس صرف 2012ء سے ہی پاکستانی صحرائوں اور ریگستانوں کا حجم اچانک بڑھنے لگے گا۔ اس ’’اچانک‘‘ تبدیلی پر گیلانی صاحب بہت حیران ہوں گے مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
گزارش یہ ہے کہ اس بدنصیب پارٹی کے تابوت میں آخری کیل اسی روز ٹھونک دی گئی تھی جس روز بی بی کو قتل کیا گیا۔ یہ جماعت 1979ء میں یتیم ہوئی اور اب 2007ء میں یہ مسکین اور معذور ہو کر رہ گئی۔ اب اس کا شیرازہ بکھرنا ہوائوں پر لکھا تو ہم جیسے کم نظر بھی دیکھ رہے ہیں کہ پارٹیاں افراد چلاتے ہیں اور افراد وہ جو قیادت کی دولت سے مالا مال ہوں مگر یہاں کے افراد قیادت کی دولت سے تو خیر یکسر ناآشنا ہیں البتہ دوسری دولت سے خوب مالا مال ہیں چنانچہ یہ بار گراں ان کے ناتواں کندھوں کے بس سے باہر ہے۔
جس طرح اے این پی سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اس کے بارے میں چہ میگوئیاں یہی ہو رہی ہیں کہ اس کا سیاسی مستقبل صرف اور صرف اس بات میں ہی مضمر ہے کہ وہ نواز لیگ میں شامل ہو جائیں چنانچہ انہوں نے اپنا اور اپنے بال بچوں کا کل سلامت رکھنے کے لئے بیچاری اے این پی کا آج قربان کر دیا۔ بالکل اسی طرح اب پیپلزپارٹی کے اندر بھی ایک ’’قربان گاہ‘‘ قائم ہوتی نظر آتی ہے جس میں ہر سمجھدار شخص اپنا سیاسی مستقبل محفوظ کرنے کے لئے اس بدنصیب پارٹی کا مفاد قربان کرتا چلا جائے گا، کوئی نواز لیگ کے ساتھ مستقبل کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر مک مکا کرے گا تو کوئی مسلم لیگ فنکشنل کے ساتھ سیٹنگ کر لے گا۔ ہو سکتا ہے کہ دو چار پکھیرو متحدہ کے ساتھ بھی تھرو ہو جائیں اور ایک آدھ سیانا قوم پرست سندھیوں کی چمپی چاٹی کرتا بھی نظر آئے بہرحال جنوبی پنجاب اور سندھ میں نواز لیگ‘ پیپلزپارٹی کا کافی نقصان کر سکتی تھی مگر اپنے میاں صاحب کو اس پچھلی عمرے بہائو کے برخلاف تیرنے کا شوق ایسا چرایا ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے بوڑھے گدھ کو اپنی منڈیر پر بیٹھنے ہی نہیں دے رہے۔ خدا کرے کہ ان کا یہ موقف درست ثابت ہو اور پاکستانی سیاست بالآخر صحیح سمت میں چل پڑے۔
بہرحال، یوسف رضا گیلانی کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہے اور انہیں خوب پتہ ہے کہ ان کی اپنی پارٹی کا تو اب اللہ ہی حافظ ہے چنانچہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ مستقبل کے بہت سے سیاسی دھماکوں کا شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے۔ ع
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!
Chalak Stack Holders… by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|
Air Marshel… by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|
Cricket Mien Chitrool… by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|
Shahbaz Sharif Ka… by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|
“Monchoon Sey Ye… by Aftab Iqbal
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|












