Amen Muhaida Ya… by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
مالاکنڈ اور سوات میں نفاذ شریعت اور قاضی عدالتیں بحال کرنے کی شرط پر معاہدہ ہو گیا ہے، اگر اتنی سی بات تھی تو یہ پہلے کیوں نہ ہو گیا۔ یہ عسکریت پسند تھے جن کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ ہم شرعی نظام عدل کے تحت زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ ایک سال تک انہیں خون کی دلدل میں غرق کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہ تو پیدائشی جنگجو ہیں اور مرتے دم تک جنگجو ہی رہتے ہیں۔ مسلمانی بھی ان کے لہو میں عمر بھر موجزن رہتی ہے وہ رگوں میں دوڑتے پھرتے لہو کو اپنی ناک میں ملا دینے کو ایمان سمجھتے ہیں۔ 1859ء سے وہ شرعی عدالتوں سے انصاف پاتے تھے خوش تھے اور خوشحال تھے ایمان اور اطمینان کی روشنی میں رہتے تھے۔ 1969ء کے بعد پاکستانی عدالتی نظام نافذ کر دیا گیا جو اصل میں انگریزی عدالتی نظام ہے نظام عدل اور عدالتی نظام میں فرق ہوتا ہے۔ عدالتی نظام میں فیصلے ہوتے ہیں اور نظام عدل میں انصاف ہوتا ہے۔ پاکستان کے انگریزی عدالتی نظام میں صدر زرداری گیارہ سال جیل میں رہے،لوگ عدالتوں میں ذلت اور اذیت کے شکار رہتے ہیں کئی کئی سالوں تک انتظار کرتے رہتے ہیں مگر انصاف نہیں ملتا فیصلہ ہی نہیں ملتا۔ قتل کے مقدمے میں عمریں بیت جاتی ہیں اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ عدالت سے لینے والا بدقسمت باپ خود مر جاتا ہے وہ مرتا نہیں اصل میں قتل ہوتا ہے، لوگ تنگ آ کر عدالتوں کے فیصلے کا انتظار نہیں کرتے پھر وہ اپنے عزیز کے قاتل کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیتے ہیں اور اس انتقام کو انصاف سمجھ لیتے ہیں وہ معاشرے زندہ رہنے کا حق نہیں رکھتے جہاں انتقام اور انصاف برابر ہو جائیں جمہوریت کو بہترین انتقام کہنے والے جان لیں کہ انصاف کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی۔ انصاف میں دیر بھی بے انصافی ہے۔
دیر آید درست آید۔ صوبائی حکومت کب سے فریاد کر رہی تھی، کوئی صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا اقدام نہیں کر سکتی۔ وہاں قتل وغارت بھی وفاقی حکومت کی معرکہ آرائی تھی۔ پاک فوج وہاں ڈٹی ہوئی تھی مگر اپنے لوگوں کے ساتھ لڑنا فوج کا کام تو نہیں ہوتا، دشمنوں کے ساتھ تو ہم نے لڑنا چھوڑ دیا ہے پاک فوج بھارت کو اپنا دشمن سمجھتی ہے ہماری حکومت بھارت کو اپنا دوست بنانے کے چکر میں چکرا رہی ہے۔ اب ہمارے حکمرانوں نے بھارت کو اپنا ’’امریکہ‘‘ بنا لیا ہے۔ اے این پی کا تو مزاج اور منشور ہی کچھ اور ہے وہ کیا جانیں نفاذ شریعت اور قاضی عدالتیں؟ صدر زرداری کا بھی میدان سیاست یہ نہیں ہے مگر اس کے علاوہ کوئی اور چارہ کار ہی نہ تھا۔ یہ سیاسی نظریہ ضرورت عدالتی نظریہ ضرورت سے بڑھ کر ہے… یہ نہ ہوتا تو پورے پاکستان میں قتل وغارت اورخوف وہراس پھیل جاتا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تو معاہدہ ہی کر لیا جائے معاہدہ کے خلاف سازش ہونے لگی ہے ہم اس قابل بھی نہیں رہیں گے کہ ہمارے خلاف سازش کی جائے ہم کوئی معاہدہ کرنے کے بھی قابل نہیں ہوں گے خود صدر زرداری نے کہا کہ اگر فوج ساتھ نہ دیتی تو طالبان اسلام آباد تک آ جاتے اس میں شک بھی نہیں۔ میریٹ ہوٹل پر حملے کا ڈر ابھی تک حکمرانوں کے دلوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ رحمٰن ملک نے تو صاف کہہ دیا کہ ٹارگٹ صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف تھے۔ صوبہ سرحد میں اسفند یار ولی کے گھر حملہ ہو گیا اور اے این پی کا ایک ایم پی اے بم دھماکے کا شکار بنا۔ ڈر کے مارے حکمران باہر نہیں نکلتے اپنے ایوانوں میں دبکے بیٹھے ہیں۔
جنرل مرزا اسلم بیگ پاک فوج کے سپہ سالار رہ چکے ہیں دانش اور دلیری سے بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں طالبان کو آنے سے فوج نہیں روک سکتی، فوج دشمنوں کے ساتھ محاذ جنگ پر لڑتی ہے اپنے شہروں کی گلیوں میں نہیں لڑ سکتی۔ جنرل صاحب نے بڑے پتے کی بات کی ہے ہم مشرقی پاکستان میں اپنے لوگوں سے نہ جیت سکے جنگ اور خانہ جنگی میں فرق ہوتا ہے کیا امریکہ ہمیں کسی قابل رہنے دے گا؟ امن معاہدہ بھی امن مقابلہ ہوتا ہے۔ ہمیں امریکہ کا بھی اس معاملہ میں مقابلہ کرنا چاہئے۔ یہ امن معاہدہ ایک معرکہ آرائی ہے ایسے کام ابھی اور بھی کرنا باقی ہیں۔ نجانے ایسے کام ہمارے حکمرانوں کو کون نہیں کرنے دیتا، اگر یہ ہو ہی گیا ہے تو اب اس معاہدے کو قائم رکھنا چاہئے پہلے بھی معاہدے ہوئے تھے نیک محمد کو معاہدے کے ایک دن بعد شہید کر دیا گیا۔ گلاب کے پھول جیسا جوان مجھے یاد آتا ہے۔ مالاکنڈ سوات میں یہ پھول ابھی ابھی کھلا ہے اس کی خوشبو کو عام ہونے دیا جائے وہاں جشن کا سماں ہے خون آلود ویرانی کے بعد بے ساختہ شادمانی کو مرنے نہ دیا جائے ورنہ زندگی شرمندگی اور درندگی کے درمیان پھر سے تڑپنے لگ جائے گی۔ شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ یہ امن معاہدہ صرف صوبائی حکومت کا معاملہ ہے اس صوبائی حکومت میں پیپلز پارٹی پارٹنر ہے وفاقی حکومت سے تو پنجاب حکومت بھی بالا بالا کچھ نہیں کر سکتی۔ صوبائی حکومت سرحد یہ جرأت کیسے کر سکتی ہے۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ پورا امن قائم ہونے سے پہلے صدر زرداری معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔ وہ خواہ مخواہ نہ ڈرائیں۔ زداری صاحب دستخط کر کے بھی معاہدہ توڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں یقین ہے کہ وہ اس امن معاہدے کی منظوری دیں گے اسے دل سے منظور کریں گے۔ شیری رحمٰن نے یہ بیان صدر زرداری کی حمایت میں دیا ہو گا مگر ایم پی اے شبینہ ریاض کا جو بیان نوائے وقت میں شائع ہوا زیادہ معتبر اور موثر ہے۔ ’’سوات میں امن معاہدہ صدر زرداری کی کامیاب حکمت عملی ہے وزیرستان اور بلوچستان میں بھی اسی طرح حالات بہتر ہونگے‘‘ صوبائی حکومت اور تحریک نفاذ شریعت کے درمیان اس معاہدے میں ساری جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔ یہ بھی امن معاہدے کی کامیابی کی ایک امید کی طرح ہے۔ یہ امریکہ کے لئے بھی ایک پیغام ہے نجانے امریکہ کیوں تلملا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ امریکہ کو بھی امن معاہدے کے لئے اعتماد میں لیا گیا ہے دہشت گرد تو وزیرستان میں ہیں ہم یہاں کیوں اپنی طاقت ضائع کریں۔
اکرم درانی نے اپنے ’’حسبہ بل‘‘ کی مخالفت کا طعنہ اے این پی کو دیا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بات مالاکنڈ سوات تک محدود نہیں رہے گی دوسرے شہر بھی اپنی عدالتوں سے تنگ آ کر شرعی نظام عدل کا مطالبہ کرنے لگیں گے۔ یہ آزاد عدلیہ کا خواب ہے جو انقلاب کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
Afser Shahi… by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
قانون تو سب کے لئے ہے۔ مگر افسران جہاں چاہتے ہیں قانون نافذ کر دیتے ہیں اور لاقانونیت بھی کرتے ہیں فریادیں منت سماجت اور التجائیں نہیں سنتے۔ میرے آقا و مولا رسول کریمؐ نے فرمایا کہ جس معاشرے میں دو قانون ہوں وہ کبھی سلامت نہیں رہتا۔ امیر اور طاقتور کے لئے قانون اور ہے بلکہ ان کے لئے قانون ہے ہی نہیں۔ قانون تو ان کے گھر میں ملازم خاتون سے بھی کمتر ہے۔ غریبوں اور کمزوروں کے لئے قانون اور ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جی او آر ون کی ضرورت ہی نہیں۔ اتنی وسیع و عریض اور شاندار کوٹھیوں اور بنگلوں کو فروخت کر دیا جائے تو اس رقم سے پانچ برس کا بجٹ تیار ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ چھوٹے گھروں میں کیوں نہیں رہ سکتے۔ جو لوگ قوم و ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ وہ اپنے لوگوں کی پہچان ہیں۔ جن کی وجہ سے پاکستان کا کچھ نام ہے۔ انہیں پوچھتا کوئی نہیں۔ سارے فنڈز اور سرمایہ ان چند لوگوں کی عیاشیوں کے لئے ہے۔ کیا پاکستان ان کے لئے بنایا گیا تھا ان کی وجہ سے ملک بدنام ہوا ہے اور ناکام بھی ہوا ہے۔
افسران انگریزوں کے جانشین بنتے ہیں۔ مگر گورے صاحب کے مقابلے میں کالے صاحب میں کوئی اہلیت نہیں ہے۔ وہ رعونت اختیارات کی طاقت اور تکبر کو انگریزوں کی وراثت سمجھتے ہیں۔ انگریزوں کی کئی باتوں سے رنجش ہے مگر انہوں نے اس بات کو بھی ایک خوبی بنا لیا تھا۔ لوگوں سے فاصلے کو بھی اچھے فیصلے کرنے کے لئے استعمال کیا۔ مگر ہمارے افسران کسی اقدام اور کسی کام کی روح میں نہیں اترتے اور کھوکھلے معاملات کو اپنی برتری سمجھتے ہیں۔ وہ اصل افسران تھے دفتروں میں نہ بیٹھتے تھے۔ تب کاریں موٹریں نہ تھیں وہ کرسی پر بیٹھنے کے علاوہ گھوڑے کی پیٹھ پر ہوتے۔ علاقے کو دیکھتے۔ کلچر کو سمجھتے لوگوں کے مسائل پر نظر رکھتے۔ ہمارے افسران صرف افسری کرنا جانتے ہیں اور افسری کو حکومت کرنے سے زیادہ بڑا اختیار سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اختیار تو اقتدار سے بڑی چیز ہے اور وہ صرف ان کے پاس ہے۔ افسران کے علاقے میں کسی معاملے کے لئے کوئی پابندی نہیں۔ لگتا ہے کہ یہ علاقہ غیر ہے اور یہاں قانون کی پابندی ضروری نہیں۔ یہاں ایک ایک مکان کی تزئین و آرائش پر ہر سال لاکھوں روپے خرچ کر دئیے جاتے ہیں۔ جبکہ عام گھروں میں کچھ بھی نہیں کیا جاتا تاکہ وہ آثار قدیمہ میں شمار ہونے لگیں۔ اخبار بیچنے والے مولوی عارف کو یونیورسٹی چوک میں کھڑا نہیں ہونے دیا جاتا کہ تم دہشت گردی میں ملوث ہو اور دوسرے کئی لوگ کھڑے نجانے کیا کیا بیچتے رہتے ہیں۔ پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ انہیں تو افسروں نے اجازت دے رکھی ہے۔ چیف سیکرٹری کے حکم پر چوک کو دکان بھی بنایا جا سکتا ہے۔
نجید طاہر مجھے فون کرتا ہے کہ میں نوائے وقتیا ہوں اب وہ رو رو کر کہتا ہے کہ مجھے یہاں سے نرسری کہیں اور لے جانے کا حکم ملا ہے۔ یہ سڑک شوکت خانم سے رائے ونڈ جاتی ہے۔ یہاں دور دور تک کوئی چیز نظر نہیں آنی چاہئے۔ وہ بے چارہ پانچ چھ لاکھ پودے اور پھول اٹھا کے کہاں جائے۔ یہاں بزرگ سیر کرتے ہیں اور اسے جنت کا کونہ کہتے ہیں۔ وہ آنسوئوں میں ڈوب کر بات کر رہا تھا اور میں اُسے تسلی کا ایک حرف بھی نہ کہہ سکتا تھا۔ ہمارے افسران اور حکمران توپ سے مکھی مارنے کی اور غلیل سے ہاتھی مارنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ان کے لئے کسی کام میں کامیابی اور ناکامی کا کوئی تصور نہیں۔ وہ کام نہ کرنے کو کام کرنا سمجھتے ہیں۔ افسر شاہی بادشاہی سے بھی بڑی ہے۔ حکمران تو افسران کے محتاج ہیں!!
Mianwaali Mien… by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
میانوالی میں تین ’’طالبان‘‘ حملے ہو چکے ہیں۔ یہ اسی طرح کی کارروائی ہے جو سوات میں شروع ہوئی تھی۔ وہاں حملے ہوئے اور وہ دکانیں جلائی گئیں جہاں حملہ آوروں کے بقول فحش سی ڈیز بکتی تھیں۔ پھرانہوں نے لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کرنا شروع کردیا۔ میانوالی میں بھی کہیں ایسی نوبت نہ آجائے۔ آخر طالبان طالبات کے دشمن کیوں ہوگئے ہیں۔ بیٹیاں تو سب کی بیٹیاںہوتی ہیں۔میانوالی میں میرے بزرگوں کی ہڈیاں مٹی میں گھل مل گئی ہیں۔ میں میانوالی کو خطۂ حیرت اور قریۂ غیرت کہتا ہوں۔ میانوالی میں فحاشی اور عیاشی اب ہونے لگی ہو تو مجھے خبر نہیں۔ میں جس میانوالی میں رہتا تھا اور جو میری میانوالی تھی۔ وہ ایک پاک صاف بستی تھی۔ جہاں عشق رسولؐ کی سرمستیوں نے دلوں میں چراغاں کررکھا تھا۔میانوالی ایک دور آباد پسماندہ ضلع ہے مگر وہاں لوگوں نے کبھی اپنی محرومیوں کا رونا نہیں رویا۔ اقتدار میں ہمیشہ رہنے والے دوستوں نے توجہ دی نہ دوسروں نے کسی قابل سمجھا۔ میں نے پچیس سال پہلے جو میانوالی دیکھی تھی۔ وہی آج بھی پوری تب و تاب جاودانہ کے ساتھ موجود ہے۔میانوالی کی کسمپرسی اور ناآسودگی نے نہ مارا مگر اب جو نئی شورش نے جنم لیا ہے یہ خطرناک ہے۔ میرا یقین ہے کہ یہ لوگ جو افراتفری اور سراسیمگی پھیلانا چاہتے ہیں اس میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ میانوالی کے لوگ ڈرنے والے نہیں وہ ان لوگوں سے کیسے خوفزدہ ہونگے جو خدا کا نام لیتے ہیں اور خدا سے نہیں ڈرتے۔ یہ اسلام کو بدنام کرنے کی مہم ہے۔ جوکچھ سوات میں ہو رہا ہے تو کیا یہ لوگ پہلے یہاں نہ تھے۔ اب وہ ہر طرف طوفان برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کے شہروں میں ایک بے یقینی کی فضا عام کرکے لوگوں کو ڈرا کے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس طرح ہر آدمی سوچنے لگ گیا ہے کہ یہ اسلام کی کونسی خدمت ہے۔ اصل میں بھارت امریکہ اور اسرائیل ایک تیر سے دوشکار کر ہے ہیں۔ پاکستان اور اسلام دونوں کو کمزور کررہے ہیں۔ ہم ان کے ہاتھوں یرغمال بنتے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ حاوی ہوتے جا رہے ہیں اور ہم کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے اور وہ اپنے اخراجات کس طرح پورا کرتے ہیں۔
سوات کے علاوہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور اب میانوالی کو بھی ٹارگٹ بنا لیا گیا ہے میانوالی ایک زمانے میں بنوں کی تحصیل تھی اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی میانوالی کے بالکل ساتھ ملا ہوا ہے۔ میانوالی پٹھانوں کا علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ درہ تنگ پر راکٹ سے حملہ ہوا ہے یہ علاقہ لکی مروت اور بنوں کے ساتھ ہے۔ قدرت آباد پولیس چوکی پر بھی حملہ ہوا ہے اور یہ واں بھچراں سے آگے واقع ہے۔ یہاں میرے گائوں موسیٰ خیل کا جوان ASI شیر خان بھی شہید ہوا ہے۔ تیسرا حملہ کنڈل پر ہوا ہے اور یہ ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر واقع ہے۔ یہ بھی چشمہ بیراج کے پل کے پار ایک پٹرولنگ پوسٹ ہے۔ اس کے بعد حملہ آوروں نے فلائی فور کے نام سے چوتھا حملہ قبول خیل پر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ دھمکیوں کا سلسلہ تو میانوالی شہر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ میانوالی میں جس بلڈنگ کے اندر سی ڈیز سنٹر تھا۔ اسے اڑانے کی دھمکی کے بعد یہاں ایک بنک کے لوگ بڑے گھبرا گئے۔ سی ڈیز والے یہاں سے دکان کہیں اور لے گئے ہیں۔ پھر کیبل والوں کو بھی دھمکیاں ملیں۔ مگر انہوں نے یہ دھمکی قبول کرنے سے انکار کیا اور اپنے بندے اسلحے سمیت بٹھا لئے۔ یہ کیبل غالباً پنوں خیل قبیلے والوں کے پاس بدر الیکٹرانکس میں ہے۔ نجانے دھمکی کب دھماکے میں بدل جائے تیاری دونوں طرف سے ہے۔ اس طرح میانوالی شہر میدان جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔ کیا اس شہر کا مقدر بھی سوات کی طرح ہے۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان خبروں کا مرکز ہیں۔ اب میانوالی بھی ایسی خوفناک خبروں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔میانوالی میں کمرمثانی جو ناظم ضلع شادی خیل کا شہر ہے یہ پاکستان کی طرف منشیات کا گیٹ وے بن گیا تھا۔ افغان مہاجرین نے اس شہر کے ہر تیسرے آدمی کو اس ’’کاروبار‘‘ پر لگا دیا ہے۔ پہلے ایسا کوئی کام یہاں نہ ہوتا تھا۔ افغان مجاہدین کودہشت گرد بنایا۔ افغان مہاجرین سے بھی یہی کام لیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو بے بس اور کھوکھلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ آہستہ آہستہ پھیلتا جا رہا ہے۔ میانوالی کے بعد سرگودھا کی باری آئے گی اورپھر لاہور یہاں سے زیادہ دور نہیں۔ موٹروے کی وجہ سے راستے سمٹ گئے ہیں۔ گورنر سرحد اویس غنی نے سب سے پہلے لاہور آ کے یہ کہا تھا کہ پنجاب ہی اصل میں دہشت گردی کا مرکز ہے۔ ان لوگوں کو خبریں ملتی ہیں خبریں دھمکیاں بن جاتی ہیں اور پھر دھماکے ہونے لگتے ہیں۔
لوگ ڈی سی او میانوالی وسیم اجمل چوہدری کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے یہاں امن و امان سلامتی اور آسودگی کیلئے کام کیا ہے وہ جذبے والے آدمی ہیں۔میانوالی کیلئے اس معاملے میں ہیڈ کوارٹر کی طرف سے فوری امداد کی ضرورت ہے۔ پولیس فورس میں اضافہ کیا جائے۔ نفری بڑھائی جائے۔ پولیس والوں کو جدید اسلحہ فراہم کیا جائے تاکہ اچھی طرح حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ دکھاوے کی فورس اور کاسمٹک پولیس کے ذریعے اس صورتحال پر قابو پانا مشکل ہے نجانے پولیس کو کیوں خصوصی نشانہ بنا لیا گیا ہے۔ ہوسکے تو یہاں رینجرز بھجوائے جائیں۔ شورش بڑھنے سے پہلے یہ اقدامات ضروری ہیں۔ ایک ہفتے میں تین واقعات خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس آواز کے اندر چھپے ہوئے راز کو سمجھنے میں غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے مجھے اپنے ضلع کی فکر مندی ہے۔ مگر بات یہاں تک نہیں رہے گی۔ اسے پھیلنے دیا گیا تو معاملہ بڑے شہروں تک وسیع ہو جائے گا۔مجھے میانوالی سے صحافی محمود الحسن خان نیازی نے بتایا ہے کہ میانوالی میں آئی ایس آئی کے دفتر سے لوگوں کیلئے اس حوالے سے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ کیا یہ ان کے فرائض میں نہیں کہ وہ حملہ آوروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔میانوالی میں عوام دشمن کارروائیوں کے خلاف موثرکارروائی کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ ہوا چل پڑی ہے تو اس کو طوفان بننے سے روکنا ہوگا۔
دشمن کے بارڈر پر مہنگی سرمایہ کاری؟ by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
نوازشریف پاکستان کے ایک محب وطن اور بڑے لیڈر ہیں۔ کھر صاحب سے ان کی دوستی سمجھ سے بالاتر ہے۔ لگتا ہے کہ خاص طور پر نوازشریف کے ساتھ ان کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ جب اسلام آباد ایئرپورٹ سے نوازشریف کو دوبارہ سعودی عرب جلاوطن کیا جا رہا تھا تو لندن سے ان کے ساتھ آنے والا غلام مصطفیٰ کھر کہیں روپوش ہو گیا تھا۔ اس کے مزید مشوروں سے نوازشریف کو بچنا چاہئے۔ نوازشریف ہیلی کاپٹر پر اس علاقے کا فضائی جائزہ لیتے رہے ہیں سنا ہے کہ یہ بات بھارتی فوجی افسران کے علم میں بھی ہے اور وہ بھی اس منصوبے پر پوری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ممبئی حملوں اور اس جیسے مزید واقعات کے بعد اگر بھارتی فوج پھر بارڈر پر آ گئی تو اس منصوبے کا کیا بنے گا جبکہ فوج کی اجازت کے بغیر اس علاقے میں کوئی سڑک نہیں بنائی جا سکتی اور کوئی تعمیر نہیں کی جا سکتی اربوں روپے کی سرمایہ کاری دشمن کی زد میں رہے گی زیرو لائن تک سرمایہ کاری کا پس منظر کیا ہے؟ جبکہ کھر صاحب کی زمین بھی زیرو لائن تک ہے۔ یہاں فوج پانی بھی چھوڑ دیتی ہے تاکہ دلدل میں دشمن کے ٹینک چل نہ سکیں۔ اگر منصوبے کی تکمیل سے پہلے کوئی واقعہ ہو گیا تو یہ علاقہ فوج کی نگرانی میں چلا جائے گا اور میدان جنگ بن جائے گا پھر کروڑوں روپے افسران ہضم کر جائیں گے آرمی چیف‘ کور کمانڈر لاہور، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی اس سلسلے میں مداخلت کریں۔ نوازشریف اور شہبازشریف کو بھی ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ اربوں روپے کے منصوبے کی ناکامی کے بعد کس قدر نقصان ہو گا۔ اس علاقے کے غریب مسکین لوگوں کو ذلیل و خوار کرنے کا پروگرام بن چکا ہے یہ لوگ سرحد پر دشمن کی نگاہوں کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں کسی بُرے وقت میں پوری طرح وطن کی عزت کے لئے قربان ہونے سے بھی نہیں گریز کرتے۔ اس سارے منصوبے پر 302 ارب ڈالر خرچ آئیں۔ دو لاکھ 90 ہزار ایکڑ رقبہ خریدا جائے گا۔ نارنگ اور نواحی سرحدی علاقوں کے لوگوں نے آخری دم تک احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملکی حالات خراب ہیں بھارت کے ساتھ معاملات خطرناک ہیں ایسے میں یہ کام کسی طور بھی ملک وقوم کے مفاد میں نہیں۔ اس طرح کی سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی سے پہلے سو مرتبہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا بھارت نے اپنے کسی بارڈر پر اس طرح کے ترقیاتی منصوبے کا سوچا بھی ہے؟
ایک اچھی خبر کے ساتھ کئی خبریں by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
نواز شریف اپنے حق میں فیصلہ آنے کے بعد وکلاء تحریک کے لئے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ لانگ مارچ اور دھرنے کا کیا بنے گا۔ میں اس پر پھر بات کروں گا۔ البتہ شیخ رشید کی یہ بات سن لیں کہ اس نے لانگ مارچ اور دھرنے کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر اس لانگ مارچ میں نواز شریف بنفس نفیس اور بذات خود شریک ہونگے تو نتائج اور ہونگے۔ ان کے بغیر معاملہ مختلف ہو گا۔ میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے لئے دل و جان سے حاضر رہا ہوں اور حاضر ہوں مگر جنرل پرویز مشرف کے حق میں ا ن کا فیصلہ بھی موجود ہے اور یہ فیصلہ نواز شریف کی دو تہائی اکثریت والی حکومت توڑنے کے بعد دیا گیا۔ اس اقرار کے بعد اسی جرنیل کے سامنے ایک انکار کر کے وہ پوری قوم کے محبوب ہوئے۔ اب وہ آزاد عدلیہ کی علامت ہیں۔ ججوں نے اب ڈاکٹر قدیر کے لئے جرات مندانہ اور منصفانہ فیصلہ دیا ہے عدالت نے امریکی دباؤ کا بھی سامنا کیا ہے۔ حکمران کبھی ایسا نہیں کر سکے۔ ہم انہیں سلام کرتے ہیں۔ حکمران اور سیاستدان تو ڈاکٹر قدیر کے لئے کچھ نہ کر سکے یہ کام ججوں نے کر دکھایا ہے۔ ججوں کے لئے سیاسی زبان میں بات نہیں کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر قدیر کے فیصلے سے عدالتوں کے لئے یہ امید پھر زندہ ہو گئی ہے کہ اس معاشرے میں قانون کی طاقت بحال ہو گی۔ طاقت کا قانون چلانے والے اپنا سا منہ لے کے رہ جائیں گے۔
صدر زرداری گھبرائیں نہیں اور نہ ڈریں۔ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کریں۔ وہ زرداری کے خلاف کوئی مقدمہ سنیں گے ہی نہیں۔ انہوں نے جنرل مشرف کا اہلیت کیس سننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بھی کوئی کم انکار نہ تھا۔ چیف جسٹس ڈوگر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اس طرح کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو گی۔ 3 نومبر سے پہلے سب جج بحال ہونگے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جسٹس رمدے کے فل بینچ عدالتی فیصلے کی صورت میں بحال کیا گیا۔ یہ معرکہ آرائی بھی ججوں نے کی۔ ڈاکٹر قدیر نے سب کو معاف کر دیا ہے تو سیاستدان بھی یہ کارنامہ کر دکھائیں۔ ڈاکٹر قدیر کے لئے میڈیا کا کردار بہت قابل تحسین ہے۔ بالخصوص نوائے وقت اور وقت نیوز کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مجید نظامی نے ہمیشہ کی طرح اس حوالے سے بھی صحافت کو سربلند کر دیا ہے۔ محسن پاکستان فاؤنڈیشن اور اس کے صدر عبداللہ گل کا ذکر بھی ضروری ہے۔
وکلاء تحریک ‘ وکلاء سیاست by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
اے کے ڈوگر بہت سیاسی قسم کے وکیل ہیں بقول ان کے نواز شریف ان کے لیڈر ہیں۔ موکل اور لیڈر میں آجکل فرق مٹ گیا ہے۔ سیاستدان تو ججوں کے خلاف بول رہے ہیں مگر وکیلوں کو یہ زیب نہیں دیتا۔ آج عدالت سے نکلے تو ڈوگر صاحب بالکل نئے آدمی یعنی وکیل تھے۔ آج انہیں جج بڑے اچھے لگے جسٹس شیخ حاکم کے لئے بھی ڈوگر صاحب نے بڑے اچھے جذبات کا اظہار کیا۔ وہ بات کرتے ہوئے سر بھی ہلاتے ہیں۔ شائد جوش جذبات میں ان کا سر ہلتا ہے۔ بات کرتے یا تقریر کرتے ہوئے کرد صاحب کی زلفیں ہلتی ہیں اور ڈوگر صاحب کا سر ہلتا ہے ۔ ڈوگر صاحب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کر رہے ہوتے ہیں اور لگتا ہے جیسے بپھرے ہوئے وکیلوں سے خطاب کر رہے ہیں علی احمد کرد بولتے ہیں تو لگتا ہے جیسے ابھی ابھی جسٹس شیخ حاکم کی عدالت سے باہر نکلے ہوں۔ آج جسٹس حاکم نے نجانے ڈوگر صاحب پر کیا جادو کر دیا جو ان کے سر چڑھ کر بول رہا تھا وہ ان کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے تھے یہ کمزور پل نجانے کب گرتا ہے۔ ایک چیونٹی ایک ہاتھی کے ساتھ پُل پر سے گزر رہی تھی ۔ پل ذرا سا ہلا تو چیونٹی نے سر ہلا کے ہاتھی سے کہا۔ ’’اوئے ہاتھی میرے ساتھی۔ جب تو اور میں مل کے پُل پر سے گزرتے ہیں تو نجانے یہ ہلتا کیوں ہے‘‘۔ کئی صحافیوں نے سینئر وکیل ڈوگر صاحب سے پوچھا کہ کل تو ان ججوں کے خلاف آپ بول رہے تھے بلکہ بیان بازی کر رہے تھے تو آج یکایک کیا ہو گیا ہے۔ ڈوگرصاحب تھوڑا سا گھبرائے اور کہا کہ آج ججوں کا رویہ میرے ساتھ اچھا تھا کسی من چلے صحافی نے پوچھ لیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں آ رہا ہے۔ ڈوگر صاحب نے کوئی بات نہ کی۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسی کوئی بات ہے۔ فیصلہ اگر حق میں آئے ٹھیک ہے اگر خلاف آئے تو غلط ہے۔ سیاستدان اگر الیکشن میں ہار جائیں تو دھاندلی ہوتی ہے دوسری صورت میں الیکشن منصفانہ تھے۔ اہلیت کا فیصلہ ابھی آیا نہیں اور احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی ایسے ہی خدشے کی غلط فہمی میں ایک غیر آئینی اقدام کیا تھا۔ سیاسی جرنیلوں اور جینوئن سیاستدانوں میں کچھ توفرق ہونا چاہئے۔حق وہی ہے جو میرے حق میں ہے۔ اس کے علاوہ سب کچھ ناحق ہے۔ ہماری سیاست میں یہ رجحان بہت نقصان دہ ہے۔ جو میرے لیڈر نے کہا ہے وہ سب ٹھیک ہے اور جو مخالف پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے وہ سراسر غلط ہے۔ اس میں کسی دلیل کی گنجائش بھی نہیں یہ لوگ کیسے سیاستدان ہیں جو اپنے لیڈر کے سامنے بول ہی نہیں سکتے۔ اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں بلکہ نہیں میں نہیں ملاتے ہیں۔کبھی کوئی وکیل کسی مقدمے میں اتنا پرسنل نہیں ہوتا۔ سیاسی بھی نہیں ہوتا۔ دونوں طرح کے فیصلے اس کیلئے قابل قبول ہوتے ہیں ۔ ڈوگر صاحب کی باتیں اور ان کا انداز سیاسی ہے۔ میں نواز شریف کو ایک بڑا لیڈر سمجھتا ہوں۔ مگر انہیں اس انداز میں عدالتوں اور ججوں کے خلاف نہیں بولنا چاہئے انہوں نے جو باتیں کیں وہ اپنے مخالف سیاستدانوں کے بارے میں بھی نہیں کی جاتیں۔ اداروں میں کشمکش کا جو نتیجہ نکلتا ہے اسے نواز شریف بھگت چکے ہیں۔ عدالتیں جیسی بھی ہیں لوگوں کو یہاں سے انصاف کی امید ہے۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس زاہد حسین عدالتوں کے اندر بہتری لانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بھی غنیمت ہے۔
ہمیں عدالتوں سے سیاسی فیصلے لینے سے جو نقصان ہوا ہے۔ اس کا احساس نہیں ہے۔؎
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا تھا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
عدالتی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تو سیاسی نظام کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ نوازشریف کے وکیل اکرم شیخ کا رویہ پہلے سے ہی ذمہ دارانہ رہا ہے۔ بہرحال سیاست میں نظریہ ضرورت ابھی موجود ہے۔ اب صورتحال کیا انداز اختیار کرے گی۔ پی سی او عدالت سے فیصلہ شریف کے حق میں آ جاتا ہے تو پھر پی سی او عدالتوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ لانگ مارچ کا کیا بنے گا اور دھرنے کا کیا ہوگا۔نو مارچ سے پہلے ہی باتیں ہونے لگی ہیں۔ پہلے بھی وکیلوں نے صبر کر لیا تھا اب بھی کرلیں گے۔ پہلے اعتزاز احسن سپریم کورٹ بار کے صدر تھے۔ اب علی احمد کرد ہیں صدر بننے کے بعد وکیل سیاستدان بن جاتے ہیں کچھ کچھ حکمران بھی بن جاتے ہیں۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں سیاستدان یا تو اقتدار میں ہوتے ہیں اور یا اقتدار کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ دونوں میں اتنا فرق نہیں ہوتا۔میں سوچتا ہوں کہ سپریم کورٹ بار کے صدر اور صدر پاکستان میں کیا فرق ہے۔ آصف زرداری اور علی احمد کرد میں کیا فرق ہے۔ دونوں کو آمنے سامنے بٹھا کر پوچھنا چاہئے۔ نواز شریف کے حامی وکیل سوچیں اگر صدر زرداری نے چیف جسٹس کو بحال کر دیا تو کیا وہ اس کے حامی ہو جائیں گے۔ وہ وکیلوں کے لیڈر ہیں اور ان کا لیڈر نوازشریف ہے۔ وکلاء تحریک میں سیاست آ گئی ہے۔
پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سیاسی ہو گئے ہیں۔ وہ تو سیاسی نہیں ہوئے مگر وکیل سیاسی ہو گئے ہیں۔ ہم جانثار وکیلوں کے حق میں ہیں سیاستدان وکیلوں کے حق میں نہیں ۔ وکلاء تحریک ٹھیک ہے۔ وکلاء سیاست ٹھیک نہیں۔ نوازشریف کی نااہلی کے بعد کونسے حکمرانوں کو جانا پڑے گا۔ حکمران تو شریف برادران بھی ہیں جائیں گے تو دونوں جائیں گے اور کرد صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ دونوں نہیں جائیں گے تو پھر کون جائے گا یہ کرد صاحب کو پتہ ہوگا۔
وہ ردعمل تھا یہ ردی عمل ہے by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
چینی وزیراعظم کیمرج یونیورسٹی لندن میں اقتصادی صورتحال کے حوالے سے خطاب کر رہے تھے۔ آج کل امریکہ میں اقتصادی بحران آیا ہوا ہے۔ اس کا غصہ بھی انہیں چین پر ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کے حوالے سے تو وہ مقابلے پر ہے۔ اب اقتصادی طاقت ہونے کی صورت میں بھی میدان میں ہے اور آگے نکلا جا رہا ہے۔ سوویت یونین کو پاکستان افغانستان اور عالم اسلام کے لوگوں سے امریکہ نے شکست دلائی اور اسے روس بنایا۔ سوویت یونین میں اقتصادی بحران اس کا بڑا سبب تھا۔ امریکہ چین کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا چاہتا ہے مگر یہ نہ ہو سکے گا۔ پاک افغان سرحد پر امریکہ کی رسوائی اور پسپائی دنیا والوں پر ظاہر ہونے لگی ہے۔ ڈر ہے کہ امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے میں لائے گا۔ یہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ بھارت تو پاکستان کا مدمقابل نہیں بن سکا۔ پاکستانی حکمرانوں کی کمزوریوں اور مجبوریوں کے باوجود بھارت کچھ نہیں کر سکا تو چین کے مقابلے میں کیا کرلے گا۔
صدر بش کو جوتا مارنے والے بہادر صحافی منتظر زیدی کیلئے ساری دنیا منتظر ہے۔ وہ ہیرو ہے اور محبوب ہے۔ اس کے دلیرانہ اقدام سے ایک دلیرانہ فضا بھی پیدا ہوئی ہے۔ اس رسوائی کیلئے اس بھونڈے انداز میں نقالی کرنا مزید رسوا ہونے کی بات ہے۔ اب امریکہ کو کسی طرح کی رسوائی اور بے عزتی کی پروا نہیں۔
نجانے وہ کتنی ایجنسیوں کا آدمی ہے۔ امریکی بھارتی برطانوی اور اسرائیلی سازشوں نے مل کر یہ ڈرامہ تخلیق کیا ہے۔ عراقی صحافی نے تو عالم اسلام کی نفرت کی نمائندگی اور ترجمانی کی۔ یہ کس نفرت کی نمائندگی ہے۔ اس کا نام بھی سامنے نہیں آرہا۔ اس نے جوتا پھینکا جو لوگوں کے سر پر جا لگا۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ آپ اس جھوٹ کو کس طرح سن رہے ہیں۔ یونیورسٹی نے چینی آمر کو یہاں بلا کر ماحول کو پراگندہ کیا ہے۔ اس نے سیٹی بجائی کسی نے اس کی بات کی طرف دھیان نہ دیا۔ کوئی اس سے پوچھے کہ صدر بش سے بڑا جھوٹا جابر اور آمر کوئی ہو گا۔ لندن میں پاکستانی آمر ’’صدر جنرل‘‘ پرویز مشرف آتا رہا ہے۔ اس کی طرف تو کسی نے جوتا نہیں پھینکا۔ امریکیوں نے بندوقیں تان کے لوگوں کو منع کیا۔ پاکستانیوں کے ساتھ اب امریکہ کی اجازت سے بھارت یہ بھی کرے گا۔ لہٰذا ہمارے سیاسی اور فوجی آمر اور جابر حکمرانوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی بے تحاشا اور غیر ضروری سیکورٹی میں یہ احتیاط بھی رکھیں کہ کوئی جوتیاں نہ پھینکے۔ یہ تو اب احتجاج کی ایک شکل ہے پہلے جلوسیوں اور احتجاجیوں یعنی مظاہرین کے ہاتھوں میں جھنڈے ہوتے تھے۔ بینرز ہوتے تھے۔ اب جوتیاں ہوتی ہیں۔ جوتیوں کے ہار لوگ ہاتھوں میں لئے سڑکوں پر پھریں گے اور جن لوگوں کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالنے کا رواج تھا انہیں جوتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔ شاید ایسا وقت بھی آجائے کہ حکمران اپنی گردن خود جوتیوں کا ہار پہننے کیلئے جھکا دیں۔ سر جھکانے والوں کیلئے یہ کام بھی کوئی مشکل نہیں ہو گا۔
چینی وزیراعظم کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے تو بھارت کیلئے اب آسانی ہے کہ وہ پاکستان پر الزام لگا دے کہ چینی وزیراعظم پر جوتا پھینکنے کی سازش پاکستان میں دہشت گردوں نے تیار کی ہے۔ پاکستان اس معاملے میں بھی خاموشی اختیار کرے گا۔ جو کچھ بھارت پاکستان کے ساتھ کر رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں حکومت پاکستان کا رویہ ایک کمی کمین والا ہے۔ امریکہ کے بعد اب بھارت کی ہدایات پر پاکستان میں عمل ہو گا۔ جبکہ چین اور دنیا والے جانتے ہیں کہ یہ ساری کارروائی بھارت نے کروائی ہے اور اسے امریکہ کی امداد اور آشیرباد حاصل ہے۔
چینی وزیراعظم کے ساتھ اس واقعے کے بعد جوتا پھینکنے والے نوجوان کے ہمراہ تبت کے حوالے سے چین کی پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ تبت کے لوگوں کو چین سے آزادی حاصل کرنے کے بہانے تحریک چلائی جا رہی ہے اور پروپیگنڈا مہم جاری ہے۔ تبت کا جلاوطن لیڈر دلائی لامہ بھارت میں مسلسل مقیم ہے اور عیش کر رہا ہے۔ بھارت والے تبت والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا جو علاقہ چین میں ہے اسے آزاد کرالو۔ تم بھارت میں جس علاقے میں موجود ہو۔ وہ تمہیں تحفے میں میں دے دیا جائیگا۔
ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے بھی چین کے ساتھ بھارت دوستی کا ڈھونگ رچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے بھارت کو کسی تنقید کی پرواہ نہیں۔ کشمیر کی طرف سے بھی چین کی سرحد بھارت کے ساتھ ملتی ہے۔
چین نے جس طرح ایک سو برس کے بعد بغیر لڑے ہانگ کانگ لے لیا۔ وہ تائیوان اور تبت کیلئے بھی یہی پالیسی اپنائے ہوئے ہے مگر کوئی چینی وزیراعظم کی طرف جوتا پھینکے اور اسے بھی کسی مصلحت کی پالیسی کی نذر کر دیا جائے تو یہ بات بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ واقعہ خدانخواستہ پاکستانی حکمران کے ساتھ پیش آیا ہوتا بھارت اسے ممبئی حملوں کے ساتھ جوڑ دیتا اور ہماری حکومت حسب معمول بزدلی کا مظاہرہ کرتی تو سمجھ میں آنے والی بات ہے مگر چین اس واقعے کو یونہی نہیں چھوڑے گا۔ اس میں امریکہ اور بھارت تو شامل ہیں۔ تھوڑا بہت برطانیہ کا حصہ بھی اس میں ہے۔
صادق اور کاذب کا فرق سیاست میں نہیں…..بےنیاریاں
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
سنا ہے صبا صادق اب اپنی گاڑی پر ایم پی اے کی بجائے ’’موجودہ حکومت زندہ باد‘‘ لکھوانا چاہتی ہے۔ جو بھی حکومت ہو گی جیسی بھی ہو گی موجودہ تو ہو گی۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ میں جس طرح یہ چاہتا ہوں کہ نوازشریف نااہل نہ ہوں۔ بالکل اسی طرح چاہتا ہوں کہ ہر لوٹا نااہل ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ نوازشریف اہل دل بھی ہو جائیں‘ وہ ہیں مگر تھوڑے سے زیادہ ہو جائیں اور اپنے اہل ہونے کے لئے منتشر اور متصادم سیاست نہ کریں۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ یہ جج مجھے نااہل نہیں کر سکتے۔ وہ اب اس مقام پر ہیں کہ یہ اہلیت ان کے لئے پریشان کن نہیں ہونا چاہئے۔ وہ اب بھی قومی اسمبلی میں نہیں مگر وہ ایک بڑے لیڈر ہیں۔ وہ لیڈر بنیں سیاستدان نہ بنیں اور اپنے چھوٹے بھائی شہبازشریف کو سمجھائیں کہ دوست بنیں حاکم نہ بنیں۔ حکومت اور سیاست بہت معمولی چیزیں ہیں‘ ہم قائداعظمؒ کو کبھی سیاستدان نہیں کہتے نہ گورنر جنرل کہتے ہیں۔ وہ ان دونوں حیثیتوں کے مالک تھے مگر ان کی حیثیت اس کے علاوہ کچھ اور ہے۔ خدا کی قسم اہل ہونے سے اہل دل ہونا بڑا اعزاز ہے۔ ہر اعزاز کا ایک راز ہوتا ہے اور ہم اب راز کو اہمیت یا ’’اہلیت‘‘ دینے کو تیار نہیں‘ ہم صاحب راز ہونے سے زیادہ اعزاز ہونے کو ترجیح دیتے ہیں‘ ہم خواب کی اہمیت نہیں دیتے۔ خواب کی تعبیر کے پیچھے اندھادھند بھاگتے رہتے ہیں‘ پھر ہانپنا اور کانپنا ہمارا مقدر بن جاتا ہے۔
نجانے کیوں مجھے یقین ہے کہ آزاد عدلیہ ہمارے کسی سیاستدان یعنی حکمران کو راس نہیں‘ پھر یہ کیا ہو رہا ہے‘ جو بھی ہو رہا ہے۔ دونوں کے لئے ٹھیک نہیں۔ جب آدمی اقتدار میں ہو یا اقتدار کے انتظار میں ہو تو پھر سارا اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ چھانگا مانگا میں اور سوات میں ابھی درخت ہیں‘ یہاں وفاداری کے قیدخانے میں رہنے والوں نے کوئی تفریح عام لوگوں یعنی ووٹروں کے لئے نہیں رہنے دی۔ میریٹ ہوٹل بھی دھماکے کا شکار ہونے کے بعد شکاریوں کے لئے کھول دیا گیا ہے‘ وہی چکر چلنے والا ہے‘ بحالی اور بیحالی کا زمانہ آنے والا ہے۔
اس کا بڑا نقصان یہ ہے کہ سیاست میں صادق اور کاذب کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اپنی حکمرانی بچانے کے لئے سیاستدان سچے جھوٹے ورکر میں تمیز کرہی نہیں سکتے۔ جب صبا صادق مسلم لیگ ق میں گئی تھی تو غلط تھی۔ یہ ق اسی صادق والا ہے۔ جب وہ مسلم لیگ (ن) میں آئی ہے تو ٹھیک ہے۔
چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کامیاب اپوزیشن کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں وہ کامیاب حکومت کرتے تھے اور وردی وردی کرتے نہیں تھکتے تھے۔ جب صبا صادق مسلم لیگ ق میں آئی تھی تو انہوں نے پہلے سے موجود اپنی ساتھی خواتین سے زیادہ پذیرائی صبا صادق کو دی۔ تب اس کے بیانات نکلوا کے اُسے دکھائے جائیں۔ اس کے اب کے بیانات کسے دکھائے جائیں‘ اس کے خیال میں دونوں ٹھیک ہیں۔ تب صبا صادق کے سچے لیڈر چودھری پرویز الٰہی تھے اور اب اس کے اصل لیڈر شہباز شریف ہیں جبکہ اس کے محبوب لیڈر خواجہ سعد رفیق ہیں۔ خواجہ صاحب کامیاب سیاستدان ہیں تو صبا صادق بھی کامیاب سیاستدان ہیں۔
خواجہ صاحب زیادہ کامیاب ہیں کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو نہ چھوڑا‘ ان کی کامیابی اسی میں ہے۔ وہ مقرر بھی اچھے ہیں۔
عورت کے لئے سب سے بڑا رشتہ اور رتبہ بیوی کا ہوتا ہے اور بیوی کو احترام سے اہلیہ کہا جاتا ہے‘ کبھی مرد کو خاوند کے علاوہ اہل نہیں کہا جاتا۔ اہلیہ اور اہلیت کے لفظوں پر غور کر لیں۔ عورتوں کو مخصوص نشستوں پر آنے کے بعد وفاداری تبدیل کرنا بڑا عجیب لگتا ہے وہ ووٹ لے کے تو آئی نہیں ہوتیں۔ یہ تو صرف پارٹی کی نوازش ہوتی ہے۔ اکثر عورتوں پر بے جانوازش کی گئی ہوتی ہے۔ نوازش سے اشارہ نوازشریف کی طرف نہیں ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ اعتماد خواجہ سعد رفیق پر کیا جاتا ہے اور خواجہ سعد رفیق صبا صادق پر اعتماد کرتے ہیں۔ صبا صادق زیادہ قابل اعتماد ہے۔ پہلے مسلم لیگ ق اور اب مسلم لیگ (ن) اس کا دفاع کر رہی ہے۔ صبا صادق کے لئے موقع ہے کہ وہ دونوں لیگوں کو متحد کرنے کی کوشش کرے۔ اس نے کہا ہے کہ میرا دفاع رانا ثناء اللہ کی بجائے ظہیر الدین چودھری کو کرنا چاہئے تو پہلے اس کا دفاع راجہ بشارت کی بجائے رانا ثناء اللہ کو کرنا چاہئے تھا۔ خواجہ سعد رفیق دھڑلے کے آدمی ہیں۔ انہوں نے نہ تو صبا صادق کی بظاہر حمایت کی نہ مخالفت کی۔ یہی سیاست ہے۔ اب تک صبا صادق نے چودھری پرویزالٰہی کو بھی ناراض نہیں کیا۔
اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ایک بار ایسی کوثی مثال قائم ہو کہ سیاستدانوں کو لوٹا بنتے ہوئے چھوٹا موٹا خوف ہونا چاہئے۔ صبا صادق نااہل ہو تو کشمالہ طارق کو بھی احساس ہو گا۔ طارق اور صادق میں ق مشترک ہے۔
صبا صادق کو فارورڈ بلاک میں کیوں نہیں لیا گیا۔ صبا صادق عطا مانیکا سے زیادہ فارورڈ ہے۔
صبا صادق نااہل ہونے سے پہلے پہلے کسی اہلیت کا مظاہرہ کرے گی۔ ایک سگریٹ نوش جو چار پانچ دفعہ سگریٹ چھوڑ چکا تھا۔ شور و غل سن کر ذرا ڈسٹرب ہوا۔ اس سے کہا گیا کہ قیامت آنے والی ہے اس نے پہلے سے اطمینان سے سگریٹ سلگھائی ’’اس سے پہلے میں ایک سگریٹ تو پی لوں‘‘
Saadiq Aur Kazib… by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|
Kher House Sey… by Dr Ajmal Niazi
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
|
|
|
|
|






