Mianwaali Mien… by Dr Ajmal Niazi

12 February, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

میانوالی میں تین ’’طالبان‘‘ حملے ہو چکے ہیں۔ یہ اسی طرح کی کارروائی ہے جو سوات میں شروع ہوئی تھی۔ وہاں حملے ہوئے اور وہ دکانیں جلائی گئیں جہاں حملہ آوروں کے بقول فحش سی ڈیز بکتی تھیں۔ پھرانہوں نے لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کرنا شروع کردیا۔ میانوالی میں بھی کہیں ایسی نوبت نہ آجائے۔ آخر طالبان طالبات کے دشمن کیوں ہوگئے ہیں۔ بیٹیاں تو سب کی بیٹیاںہوتی ہیں۔میانوالی میں میرے بزرگوں کی ہڈیاں مٹی میں گھل مل گئی ہیں۔ میں میانوالی کو خطۂ حیرت اور قریۂ غیرت کہتا ہوں۔ میانوالی میں فحاشی اور عیاشی اب ہونے لگی ہو تو مجھے خبر نہیں۔ میں جس میانوالی میں رہتا تھا اور جو میری میانوالی تھی۔ وہ ایک پاک صاف بستی تھی۔ جہاں عشق رسولؐ کی سرمستیوں نے دلوں میں چراغاں کررکھا تھا۔میانوالی ایک دور آباد پسماندہ ضلع ہے مگر وہاں لوگوں نے کبھی اپنی محرومیوں کا رونا نہیں رویا۔ اقتدار میں ہمیشہ رہنے والے دوستوں نے توجہ دی نہ دوسروں نے کسی قابل سمجھا۔ میں نے پچیس سال پہلے جو میانوالی دیکھی تھی۔ وہی آج بھی پوری تب و تاب جاودانہ کے ساتھ موجود ہے۔میانوالی کی کسمپرسی اور ناآسودگی نے نہ مارا مگر اب جو نئی شورش نے جنم لیا ہے یہ خطرناک ہے۔ میرا یقین ہے کہ یہ لوگ جو افراتفری اور سراسیمگی پھیلانا چاہتے ہیں اس میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ میانوالی کے لوگ ڈرنے والے نہیں وہ ان لوگوں سے کیسے خوفزدہ ہونگے جو خدا کا نام لیتے ہیں اور خدا سے نہیں ڈرتے۔ یہ اسلام کو بدنام کرنے کی مہم ہے۔ جوکچھ سوات میں ہو رہا ہے تو کیا یہ لوگ پہلے یہاں نہ تھے۔ اب وہ ہر طرف طوفان برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کے شہروں میں ایک بے یقینی کی فضا عام کرکے لوگوں کو ڈرا کے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس طرح ہر آدمی سوچنے لگ گیا ہے کہ یہ اسلام کی کونسی خدمت ہے۔ اصل میں بھارت امریکہ اور اسرائیل ایک تیر سے دوشکار کر ہے ہیں۔ پاکستان اور اسلام دونوں کو کمزور کررہے ہیں۔ ہم ان کے ہاتھوں یرغمال بنتے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ حاوی ہوتے جا رہے ہیں اور ہم کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے اور وہ اپنے اخراجات کس طرح پورا کرتے ہیں۔
سوات کے علاوہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور اب میانوالی کو بھی ٹارگٹ بنا لیا گیا ہے میانوالی ایک زمانے میں بنوں کی تحصیل تھی اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی میانوالی کے بالکل ساتھ ملا ہوا ہے۔ میانوالی پٹھانوں کا علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ درہ تنگ پر راکٹ سے حملہ ہوا ہے یہ علاقہ لکی مروت اور بنوں کے ساتھ ہے۔ قدرت آباد پولیس چوکی پر بھی حملہ ہوا ہے اور یہ واں بھچراں سے آگے واقع ہے۔ یہاں میرے گائوں موسیٰ خیل کا جوان ASI شیر خان بھی شہید ہوا ہے۔ تیسرا حملہ کنڈل پر ہوا ہے اور یہ ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر واقع ہے۔ یہ بھی چشمہ بیراج کے پل کے پار ایک پٹرولنگ پوسٹ ہے۔ اس کے بعد حملہ آوروں نے فلائی فور کے نام سے چوتھا حملہ قبول خیل پر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ دھمکیوں کا سلسلہ تو میانوالی شہر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ میانوالی میں جس بلڈنگ کے اندر سی ڈیز سنٹر تھا۔ اسے اڑانے کی دھمکی کے بعد یہاں ایک بنک کے لوگ بڑے گھبرا گئے۔ سی ڈیز والے یہاں سے دکان کہیں اور لے گئے ہیں۔ پھر کیبل والوں کو بھی دھمکیاں ملیں۔ مگر انہوں نے یہ دھمکی قبول کرنے سے انکار کیا اور اپنے بندے اسلحے سمیت بٹھا لئے۔ یہ کیبل غالباً پنوں خیل قبیلے والوں کے پاس بدر الیکٹرانکس میں ہے۔ نجانے دھمکی کب دھماکے میں بدل جائے تیاری دونوں طرف سے ہے۔ اس طرح میانوالی شہر میدان جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔ کیا اس شہر کا مقدر بھی سوات کی طرح ہے۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان خبروں کا مرکز ہیں۔ اب میانوالی بھی ایسی خوفناک خبروں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔میانوالی میں کمرمثانی جو ناظم ضلع شادی خیل کا شہر ہے یہ پاکستان کی طرف منشیات کا گیٹ وے بن گیا تھا۔ افغان مہاجرین نے اس شہر کے ہر تیسرے آدمی کو اس ’’کاروبار‘‘ پر لگا دیا ہے۔ پہلے ایسا کوئی کام یہاں نہ ہوتا تھا۔ افغان مجاہدین کودہشت گرد بنایا۔ افغان مہاجرین سے بھی یہی کام لیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو بے بس اور کھوکھلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ آہستہ آہستہ پھیلتا جا رہا ہے۔ میانوالی کے بعد سرگودھا کی باری آئے گی اورپھر لاہور یہاں سے زیادہ دور نہیں۔ موٹروے کی وجہ سے راستے سمٹ گئے ہیں۔ گورنر سرحد اویس غنی نے سب سے پہلے لاہور آ کے یہ کہا تھا کہ پنجاب ہی اصل میں دہشت گردی کا مرکز ہے۔ ان لوگوں کو خبریں ملتی ہیں خبریں دھمکیاں بن جاتی ہیں اور پھر دھماکے ہونے لگتے ہیں۔
لوگ ڈی سی او میانوالی وسیم اجمل چوہدری کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے یہاں امن و امان سلامتی اور آسودگی کیلئے کام کیا ہے وہ جذبے والے آدمی ہیں۔میانوالی کیلئے اس معاملے میں ہیڈ کوارٹر کی طرف سے فوری امداد کی ضرورت ہے۔ پولیس فورس میں اضافہ کیا جائے۔ نفری بڑھائی جائے۔ پولیس والوں کو جدید اسلحہ فراہم کیا جائے تاکہ اچھی طرح حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ دکھاوے کی فورس اور کاسمٹک پولیس کے ذریعے اس صورتحال پر قابو پانا مشکل ہے نجانے پولیس کو کیوں خصوصی نشانہ بنا لیا گیا ہے۔ ہوسکے تو یہاں رینجرز بھجوائے جائیں۔ شورش بڑھنے سے پہلے یہ اقدامات ضروری ہیں۔ ایک ہفتے میں تین واقعات خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس آواز کے اندر چھپے ہوئے راز کو سمجھنے میں غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے مجھے اپنے ضلع کی فکر مندی ہے۔ مگر بات یہاں تک نہیں رہے گی۔ اسے پھیلنے دیا گیا تو معاملہ بڑے شہروں تک وسیع ہو جائے گا۔مجھے میانوالی سے صحافی محمود الحسن خان نیازی نے بتایا ہے کہ میانوالی میں آئی ایس آئی کے دفتر سے لوگوں کیلئے اس حوالے سے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ کیا یہ ان کے فرائض میں نہیں کہ وہ حملہ آوروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔میانوالی میں عوام دشمن کارروائیوں کے خلاف موثرکارروائی کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ ہوا چل پڑی ہے تو اس کو طوفان بننے سے روکنا ہوگا۔
Categories : Dr Ajmal Niazi Tags : ,

دشمن کے بارڈر پر مہنگی سرمایہ کاری؟ by Dr Ajmal Niazi

11 February, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
فطری دفاعی لائن بی آر بی نہر کے پار نارنگ منڈی کے سرحدی گائوں میرو وال سے شاہدرہ تک دیہات اور زرعی رقبہ کی مکمیل تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لئے محکمہ مال کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سروے کیا جا رہا ہے، اراضی کے انتقال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ باتیں ایک خبر میں سامنے آئی ہیں جو نوائے وقت میں شائع ہوئی ہے۔ محکمہ مال نے زمینوں کا معمولی معاوضہ دینے کے لئے فہرستیں بنانا شروع کر دی ہیں۔ چالیس پچاس کلومیٹر طویل رقبہ میں راوی نیشنل پارک بنایا جائے گا جس میں جھیلیں بھی ہوں گی یہ پارک ایک شکارگاہ کے طور پر بھی استعمال ہو گا، جہاں حکمران افسران سیاستدان اور ان کے مہمان شکار کھیلیں گے اور سیروتفریح کریں گے۔ یہ وی وی آئی پی پکنک سپاٹ ہو گا 35 دیہات اس منصوبے کی لپیٹ میں آئیں گے یہاں کے مکینوں کا واحد ذریعہ کھیتی باڑی ہے ہزاروں گھروں کے لوگوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ یہاں ایک جھیل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا بھی بہانہ بنایا جا رہا ہے، ان علاقوں میں دریائے راوی کبھی بھارت اور کبھی پاکستان میں بہتا تھا وہ بھی اب سوکھ گیا ہے مختلف جگہوں پر یہ دریا گندے پانی کا جوہڑ بن گیا ہے۔ کھڑے پانی میں سرانڈ پیدا ہو گئی ہے آخر وہ پانی کہاں سے آئے گا جو جھیل میں جمع ہو گا اور بجلی پیدا ہو گی۔ پانی بھارت مسلسل روکتا جا رہا ہے یہ بجلی صرف لوڈشیڈنگ کے کام آئے گی۔ یہاں شہبازشریف کے چین کے دورے کے دوران معاہدوں کے ذریعے ملنے والے سرمایے سے کام کیا جائے گا اس منصوبے کی ناکامی کے بعد چین سے پھر کوئی معاہدہ نہ ہو سکے گا۔شہبازشریف نے چین کا دورہ کیا اس دورے سے جو فوائد حاصل ہونگے وہ اپنی جگہ بہت اہم ہیں اس حوالے سے شہبازشریف خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ سرحدی علاقے کے بدقسمت لوگوں نے 19 فروری کو نارنگ منڈی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چھوٹے بڑے حکمران، سیاستدان‘ افسران اور شکاری کاروباری انسان جو چاہتے ہیں کر لیتے ہیں پریشانی اور مایوسی کے سوا مظلوم‘ محروم اور محکوم انسانوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ مجھے ایک درخواست بھی موصول ہوئی ہے جو اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے صدر زرداری کو لکھی گئی ہے جس میں وزیراعظم، آرمی چیف، نوازشریف اور شہبازشریف کی منت سماجت کی گئی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ حکومت پنجاب نے چینی سرمائے سے نارنگ منڈی کے سرحدی علاقوں میں بی آر بی نہر کے مشرقی سمت بھارتی بارڈر تک اور راوی سائفن سے آگے لاہور کے کچھ علاقے مراکا تک چالیس پچاس کلو میٹر کا راوی نیشنل پارک بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سرحدی علاقے کے لوگ ہمیشہ دفاع وطن کے لئے قربانیاں دیتے آئے ہیں جب بھی دشمن (بھارت) کی طرف سے کوشش ہوئی یہ علاقہ دفاعی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتا ہے۔ دفاعی ذمہ داران اس حقیقت سے آگاہ ہیں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے بعد دشمن نے کوئی واردات کی تو سب کچھ تباہ ہو جائے گا اس سے پہلے یہاں کے لوگوں کی تباہی اس کے علاوہ ہے۔ خطرناک بھارتی سرحد پر اتنی بڑی سرمایہ کاری ملک وقوم کے مفاد میں نہیں۔ ملکی مفاد میں سرمایہ کاری ضروری ہے تو ایسے مقام پر کی جائے جو محفوظ بھی ہو اور غیر زرعی ہو۔ اس علاقے میں سابق گورنر اور ناکام سیاستدان غلام مصطفیٰ کھر کا رقبہ بھی ہے جو زرعی مقصد کے لئے کم اور شکارگاہ کے طور پر زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
نوازشریف پاکستان کے ایک محب وطن اور بڑے لیڈر ہیں۔ کھر صاحب سے ان کی دوستی سمجھ سے بالاتر ہے۔ لگتا ہے کہ خاص طور پر نوازشریف کے ساتھ ان کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ جب اسلام آباد ایئرپورٹ سے نوازشریف کو دوبارہ سعودی عرب جلاوطن کیا جا رہا تھا تو لندن سے ان کے ساتھ آنے والا غلام مصطفیٰ کھر کہیں روپوش ہو گیا تھا۔ اس کے مزید مشوروں سے نوازشریف کو بچنا چاہئے۔ نوازشریف ہیلی کاپٹر پر اس علاقے کا فضائی جائزہ لیتے رہے ہیں سنا ہے کہ یہ بات بھارتی فوجی افسران کے علم میں بھی ہے اور وہ بھی اس منصوبے پر پوری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ممبئی حملوں اور اس جیسے مزید واقعات کے بعد اگر بھارتی فوج پھر بارڈر پر آ گئی تو اس منصوبے کا کیا بنے گا جبکہ فوج کی اجازت کے بغیر اس علاقے میں کوئی سڑک نہیں بنائی جا سکتی اور کوئی تعمیر نہیں کی جا سکتی اربوں روپے کی سرمایہ کاری دشمن کی زد میں رہے گی زیرو لائن تک سرمایہ کاری کا پس منظر کیا ہے؟ جبکہ کھر صاحب کی زمین بھی زیرو لائن تک ہے۔ یہاں فوج پانی بھی چھوڑ دیتی ہے تاکہ دلدل میں دشمن کے ٹینک چل نہ سکیں۔ اگر منصوبے کی تکمیل سے پہلے کوئی واقعہ ہو گیا تو یہ علاقہ فوج کی نگرانی میں چلا جائے گا اور میدان جنگ بن جائے گا پھر کروڑوں روپے افسران ہضم کر جائیں گے آرمی چیف‘ کور کمانڈر لاہور، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی اس سلسلے میں مداخلت کریں۔ نوازشریف اور شہبازشریف کو بھی ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ اربوں روپے کے منصوبے کی ناکامی کے بعد کس قدر نقصان ہو گا۔ اس علاقے کے غریب مسکین لوگوں کو ذلیل و خوار کرنے کا پروگرام بن چکا ہے یہ لوگ سرحد پر دشمن کی نگاہوں کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں کسی بُرے وقت میں پوری طرح وطن کی عزت کے لئے قربان ہونے سے بھی نہیں گریز کرتے۔ اس سارے منصوبے پر 302 ارب ڈالر خرچ آئیں۔ دو لاکھ 90 ہزار ایکڑ رقبہ خریدا جائے گا۔ نارنگ اور نواحی سرحدی علاقوں کے لوگوں نے آخری دم تک احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملکی حالات خراب ہیں بھارت کے ساتھ معاملات خطرناک ہیں ایسے میں یہ کام کسی طور بھی ملک وقوم کے مفاد میں نہیں۔ اس طرح کی سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی سے پہلے سو مرتبہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا بھارت نے اپنے کسی بارڈر پر اس طرح کے ترقیاتی منصوبے کا سوچا بھی ہے؟
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : ,

ایک اچھی خبر کے ساتھ کئی خبریں by Dr Ajmal Niazi

7 February, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
اچھی خبریں اب نہیں آتیں‘ وہ پرندے جو ایسی خبریں لا سکتے تھے وہ کب کے یہاں سے ہجرت کر گئے ہیں۔ مسافر پرندے تھکے ہارے اپنا آشیانے ڈھونڈتے ڈھونڈتے بھٹک گئے ہیں‘ مگر ابھی ابھی ا یک زخمی پرندے نے سرگوشی کی ہے کہ محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ وہ ایک آزاد شہری ہیں انہیں آزادانہ نقل و حرکت کا حق ہے۔ انہیں سارے الزمات سے بری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ جنرل مشرف اور صدر بش کے لئے شرمناک سزا کی طرح ہے۔ عدالت کو اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ انہیں اب تک اس اذیت اور ذلت سے کیوں دوچار رکھا گیا جو پوری قوم کے لئے شرم کا مقام ہے۔ اس مقام پر کھڑے ہوئے ہم اس خوشخبری کا جشن بھی پوری طرح نہیں منا سکتے۔ میں پچھلی باتوں کا ذکر کر کے ماحول کو ناآسودہ اور آلودہ نہیں کرنا چاہتا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کیلئے میرا دل ممنونیت سے بھر گیا ہے۔ یہ پی سی او عدالتیں ہیں تو اس فیصلے کے بعد تنقید کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ جو آئینی عدالتیں تھیں انہوں نے اس طرح کے فیصلے کی جرات کیوں نہ کی تھی۔ اس کے بعد یہ امید ہے کہ اب نواز شریف کے لئے اچھا فیصلہ آئے گا۔ وہ ہر طرح سے اہل آدمی ہیں۔ ایک بڑے لیڈر ہیں۔ جذبات میں آکے وہ ان عدالتوں کے لئے جو کچھ کہتے رہے ہیں اس کے لئے ججوں نے برا نہیں منایا۔ یہ اچھی بات ہے میں سمجھتا ہوں کہ بہرحال جو شخص جج کی مسند پر بیٹھا ہے۔ وہ پوری عزت کے قابل ہے۔ اسے کسی غصے کا نشانہ بنانا اس کی ذات کے خلاف نہیں ہوتا۔ یہ عدالت ہے جو احترام کی مستحق ہے۔ ہمارے ملک میں غیر جمہوری قوتیں راج کرتی رہیں بلکہ ملک کو تاراج کرتی رہیں۔ اس میں عدالت کا کردار بھی شامل ہے تو سیاست بھی شریک ہے۔ سیاستدان جرنیلوں کے دست و بازو بنے رہے بلکہ آمر انہیں اپنے غلاموں کی طرح استعمال کرتے رہے۔ اس صورتحال میں کوئی سیاستدان مستثنٰی نہیں۔ اب یہ رویہ بھی ختم ہونا چاہئے کہ اب کچھ سیاستدانوں کو اس حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ ڈاکٹر قدیر کو امریکی سیاست کی پاکستان دشمنی کی بھینٹ چڑھایا گیا تھا لیکن اب عدالت نے اس کا ازالہ کر دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عدالت نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے گی۔ نواز شریف جن عدالتوں کو نہیں مانتے ان کے اس فیصلے کو مان لیں گے۔ کسی بھی معاملے میں آپس کے تصادم سے کوئی راہ ہموار نہیں ہوتی ماحول کو خوشگوار کرنے کی ضرورت ہے۔
نواز شریف اپنے حق میں فیصلہ آنے کے بعد وکلاء تحریک کے لئے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ لانگ مارچ اور دھرنے کا کیا بنے گا۔ میں اس پر پھر بات کروں گا۔ البتہ شیخ رشید کی یہ بات سن لیں کہ اس نے لانگ مارچ اور دھرنے کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر اس لانگ مارچ میں نواز شریف بنفس نفیس اور بذات خود شریک ہونگے تو نتائج اور ہونگے۔ ان کے بغیر معاملہ مختلف ہو گا۔ میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے لئے دل و جان سے حاضر رہا ہوں اور حاضر ہوں مگر جنرل پرویز مشرف کے حق میں ا ن کا فیصلہ بھی موجود ہے اور یہ فیصلہ نواز شریف کی دو تہائی اکثریت والی حکومت توڑنے کے بعد دیا گیا۔ اس اقرار کے بعد اسی جرنیل کے سامنے ایک انکار کر کے وہ پوری قوم کے محبوب ہوئے۔ اب وہ آزاد عدلیہ کی علامت ہیں۔ ججوں نے اب ڈاکٹر قدیر کے لئے جرات مندانہ اور منصفانہ فیصلہ دیا ہے عدالت نے امریکی دباؤ کا بھی سامنا کیا ہے۔ حکمران کبھی ایسا نہیں کر سکے۔ ہم انہیں سلام کرتے ہیں۔ حکمران اور سیاستدان تو ڈاکٹر قدیر کے لئے کچھ نہ کر سکے یہ کام ججوں نے کر دکھایا ہے۔ ججوں کے لئے سیاسی زبان میں بات نہیں کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر قدیر کے فیصلے سے عدالتوں کے لئے یہ امید پھر زندہ ہو گئی ہے کہ اس معاشرے میں قانون کی طاقت بحال ہو گی۔ طاقت کا قانون چلانے والے اپنا سا منہ لے کے رہ جائیں گے۔
صدر زرداری گھبرائیں نہیں اور نہ ڈریں۔ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کریں۔ وہ زرداری کے خلاف کوئی مقدمہ سنیں گے ہی نہیں۔ انہوں نے جنرل مشرف کا اہلیت کیس سننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بھی کوئی کم انکار نہ تھا۔ چیف جسٹس ڈوگر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اس طرح کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو گی۔ 3 نومبر سے پہلے سب جج بحال ہونگے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جسٹس رمدے کے فل بینچ عدالتی فیصلے کی صورت میں بحال کیا گیا۔ یہ معرکہ آرائی بھی ججوں نے کی۔ ڈاکٹر قدیر نے سب کو معاف کر دیا ہے تو سیاستدان بھی یہ کارنامہ کر دکھائیں۔ ڈاکٹر قدیر کے لئے میڈیا کا کردار بہت قابل تحسین ہے۔ بالخصوص نوائے وقت اور وقت نیوز کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مجید نظامی نے ہمیشہ کی طرح اس حوالے سے بھی صحافت کو سربلند کر دیا ہے۔ محسن پاکستان فاؤنڈیشن اور اس کے صدر عبداللہ گل کا ذکر بھی ضروری ہے۔
Categories : Dr Ajmal Niazi Tags : ,

وکلاء تحریک ‘ وکلاء سیاست by Dr Ajmal Niazi

5 February, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook

اے کے ڈوگر بہت سیاسی قسم کے وکیل ہیں بقول ان کے نواز شریف ان کے لیڈر ہیں۔ موکل اور لیڈر میں آجکل فرق مٹ گیا ہے۔ سیاستدان تو ججوں کے خلاف بول رہے ہیں مگر وکیلوں کو یہ زیب نہیں دیتا۔ آج عدالت سے نکلے تو ڈوگر صاحب بالکل نئے آدمی یعنی وکیل تھے۔ آج انہیں جج بڑے اچھے لگے جسٹس شیخ حاکم کے لئے بھی ڈوگر صاحب نے بڑے اچھے جذبات کا اظہار کیا۔ وہ بات کرتے ہوئے سر بھی ہلاتے ہیں۔ شائد جوش جذبات میں ان کا سر ہلتا ہے۔ بات کرتے یا تقریر کرتے ہوئے کرد صاحب کی زلفیں ہلتی ہیں اور ڈوگر صاحب کا سر ہلتا ہے ۔ ڈوگر صاحب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کر رہے ہوتے ہیں اور لگتا ہے جیسے بپھرے ہوئے وکیلوں سے خطاب کر رہے ہیں علی احمد کرد بولتے ہیں تو لگتا ہے جیسے ابھی ابھی جسٹس شیخ حاکم کی عدالت سے باہر نکلے ہوں۔ آج جسٹس حاکم نے نجانے ڈوگر صاحب پر کیا جادو کر دیا جو ان کے سر چڑھ کر بول رہا تھا وہ ان کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے تھے یہ کمزور پل نجانے کب گرتا ہے۔ ایک چیونٹی ایک ہاتھی کے ساتھ پُل پر سے گزر رہی تھی ۔ پل ذرا سا ہلا تو چیونٹی نے سر ہلا کے ہاتھی سے کہا۔ ’’اوئے ہاتھی میرے ساتھی۔ جب تو اور میں مل کے پُل پر سے گزرتے ہیں تو نجانے یہ ہلتا کیوں ہے‘‘۔ کئی صحافیوں نے سینئر وکیل ڈوگر صاحب سے پوچھا کہ کل تو ان ججوں کے خلاف آپ بول رہے تھے بلکہ بیان بازی کر رہے تھے تو آج یکایک کیا ہو گیا ہے۔ ڈوگرصاحب تھوڑا سا گھبرائے اور کہا کہ آج ججوں کا رویہ میرے ساتھ اچھا تھا کسی من چلے صحافی نے پوچھ لیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں آ رہا ہے۔ ڈوگر صاحب نے کوئی بات نہ کی۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسی کوئی بات ہے۔ فیصلہ اگر حق میں آئے ٹھیک ہے اگر خلاف آئے تو غلط ہے۔ سیاستدان اگر الیکشن میں ہار جائیں تو دھاندلی ہوتی ہے دوسری صورت میں الیکشن منصفانہ تھے۔ اہلیت کا فیصلہ ابھی آیا نہیں اور احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی ایسے ہی خدشے کی غلط فہمی میں ایک غیر آئینی اقدام کیا تھا۔ سیاسی جرنیلوں اور جینوئن سیاستدانوں میں کچھ توفرق ہونا چاہئے۔حق وہی ہے جو میرے حق میں ہے۔ اس کے علاوہ سب کچھ ناحق ہے۔ ہماری سیاست میں یہ رجحان بہت نقصان دہ ہے۔ جو میرے لیڈر نے کہا ہے وہ سب ٹھیک ہے اور جو مخالف پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے وہ سراسر غلط ہے۔ اس میں کسی دلیل کی گنجائش بھی نہیں یہ لوگ کیسے سیاستدان ہیں جو اپنے لیڈر کے سامنے بول ہی نہیں سکتے۔ اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں بلکہ نہیں میں نہیں ملاتے ہیں۔کبھی کوئی وکیل کسی مقدمے میں اتنا پرسنل نہیں ہوتا۔ سیاسی بھی نہیں ہوتا۔ دونوں طرح کے فیصلے اس کیلئے قابل قبول ہوتے ہیں ۔ ڈوگر صاحب کی باتیں اور ان کا انداز سیاسی ہے۔ میں نواز شریف کو ایک بڑا لیڈر سمجھتا ہوں۔ مگر انہیں اس انداز میں عدالتوں اور ججوں کے خلاف نہیں بولنا چاہئے انہوں نے جو باتیں کیں وہ اپنے مخالف سیاستدانوں کے بارے میں بھی نہیں کی جاتیں۔ اداروں میں کشمکش کا جو نتیجہ نکلتا ہے اسے نواز شریف بھگت چکے ہیں۔ عدالتیں جیسی بھی ہیں لوگوں کو یہاں سے انصاف کی امید ہے۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس زاہد حسین عدالتوں کے اندر بہتری لانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بھی غنیمت ہے۔
ہمیں عدالتوں سے سیاسی فیصلے لینے سے جو نقصان ہوا ہے۔ اس کا احساس نہیں ہے۔؎
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا تھا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
عدالتی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تو سیاسی نظام کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ نوازشریف کے وکیل اکرم شیخ کا رویہ پہلے سے ہی ذمہ دارانہ رہا ہے۔ بہرحال سیاست میں نظریہ ضرورت ابھی موجود ہے۔ اب صورتحال کیا انداز اختیار کرے گی۔ پی سی او عدالت سے فیصلہ شریف کے حق میں آ جاتا ہے تو پھر پی سی او عدالتوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ لانگ مارچ کا کیا بنے گا اور دھرنے کا کیا ہوگا۔نو مارچ سے پہلے ہی باتیں ہونے لگی ہیں۔ پہلے بھی وکیلوں نے صبر کر لیا تھا اب بھی کرلیں گے۔ پہلے اعتزاز احسن سپریم کورٹ بار کے صدر تھے۔ اب علی احمد کرد ہیں صدر بننے کے بعد وکیل سیاستدان بن جاتے ہیں کچھ کچھ حکمران بھی بن جاتے ہیں۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں سیاستدان یا تو اقتدار میں ہوتے ہیں اور یا اقتدار کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ دونوں میں اتنا فرق نہیں ہوتا۔میں سوچتا ہوں کہ سپریم کورٹ بار کے صدر اور صدر پاکستان میں کیا فرق ہے۔ آصف زرداری اور علی احمد کرد میں کیا فرق ہے۔ دونوں کو آمنے سامنے بٹھا کر پوچھنا چاہئے۔ نواز شریف کے حامی وکیل سوچیں اگر صدر زرداری نے چیف جسٹس کو بحال کر دیا تو کیا وہ اس کے حامی ہو جائیں گے۔ وہ وکیلوں کے لیڈر ہیں اور ان کا لیڈر نوازشریف ہے۔ وکلاء تحریک میں سیاست آ گئی ہے۔
پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سیاسی ہو گئے ہیں۔ وہ تو سیاسی نہیں ہوئے مگر وکیل سیاسی ہو گئے ہیں۔ ہم جانثار وکیلوں کے حق میں ہیں سیاستدان وکیلوں کے حق میں نہیں ۔ وکلاء تحریک ٹھیک ہے۔ وکلاء سیاست ٹھیک نہیں۔ نوازشریف کی نااہلی کے بعد کونسے حکمرانوں کو جانا پڑے گا۔ حکمران تو شریف برادران بھی ہیں جائیں گے تو دونوں جائیں گے اور کرد صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ دونوں نہیں جائیں گے تو پھر کون جائے گا یہ کرد صاحب کو پتہ ہوگا۔

Categories : Dr Ajmal Niazi Tags : ,

وہ ردعمل تھا یہ ردی عمل ہے by Dr Ajmal Niazi

4 February, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
عراق میں امریکی صدر بش پر جوتا بازی کا بدلہ چینی وزیراعظم پر لندن میں جوتا پھینکنے کی صورت میں لیا گیا ہے۔ اس میں بھارت بھی بری طرح شامل ہے۔ اس علاقے میں امریکہ بھارت کو چین کا مدمقابل بنانا چاہتا ہے۔ بھارت امریکہ کی باتوں میں آکے سب کچھ کر رہا ہے۔ یہ اس کی تباہی کا سامان ہو رہا ہے۔ امریکہ دنیا میں چین کو اپنا مدمقابل سمجھتا ہے۔ ڈرتا وہ عالم اسلام سے بھی ہے۔ مگر مسلمان عوام کی نفرت کے باوجود مسلمان حکام امریکہ کے غلام ہیں۔ امریکہ ویسے انہیں جوتیاں مارتا رہتا ہے اور وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں۔ وہ اس کا بدلہ اپنے عوام کی جوتیاں مار کے لیتے ہیں۔
چینی وزیراعظم کیمرج یونیورسٹی لندن میں اقتصادی صورتحال کے حوالے سے خطاب کر رہے تھے۔ آج کل امریکہ میں اقتصادی بحران آیا ہوا ہے۔ اس کا غصہ بھی انہیں چین پر ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کے حوالے سے تو وہ مقابلے پر ہے۔ اب اقتصادی طاقت ہونے کی صورت میں بھی میدان میں ہے اور آگے نکلا جا رہا ہے۔ سوویت یونین کو پاکستان افغانستان اور عالم اسلام کے لوگوں سے امریکہ نے شکست دلائی اور اسے روس بنایا۔ سوویت یونین میں اقتصادی بحران اس کا بڑا سبب تھا۔ امریکہ چین کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا چاہتا ہے مگر یہ نہ ہو سکے گا۔ پاک افغان سرحد پر امریکہ کی رسوائی اور پسپائی دنیا والوں پر ظاہر ہونے لگی ہے۔ ڈر ہے کہ امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے میں لائے گا۔ یہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ بھارت تو پاکستان کا مدمقابل نہیں بن سکا۔ پاکستانی حکمرانوں کی کمزوریوں اور مجبوریوں کے باوجود بھارت کچھ نہیں کر سکا تو چین کے مقابلے میں کیا کرلے گا۔
صدر بش کو جوتا مارنے والے بہادر صحافی منتظر زیدی کیلئے ساری دنیا منتظر ہے۔ وہ ہیرو ہے اور محبوب ہے۔ اس کے دلیرانہ اقدام سے ایک دلیرانہ فضا بھی پیدا ہوئی ہے۔ اس رسوائی کیلئے اس بھونڈے انداز میں نقالی کرنا مزید رسوا ہونے کی بات ہے۔ اب امریکہ کو کسی طرح کی رسوائی اور بے عزتی کی پروا نہیں۔
نجانے وہ کتنی ایجنسیوں کا آدمی ہے۔ امریکی بھارتی برطانوی اور اسرائیلی سازشوں نے مل کر یہ ڈرامہ تخلیق کیا ہے۔ عراقی صحافی نے تو عالم اسلام کی نفرت کی نمائندگی اور ترجمانی کی۔ یہ کس نفرت کی نمائندگی ہے۔ اس کا نام بھی سامنے نہیں آرہا۔ اس نے جوتا پھینکا جو لوگوں کے سر پر جا لگا۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ آپ اس جھوٹ کو کس طرح سن رہے ہیں۔ یونیورسٹی نے چینی آمر کو یہاں بلا کر ماحول کو پراگندہ کیا ہے۔ اس نے سیٹی بجائی کسی نے اس کی بات کی طرف دھیان نہ دیا۔ کوئی اس سے پوچھے کہ صدر بش سے بڑا جھوٹا جابر اور آمر کوئی ہو گا۔ لندن میں پاکستانی آمر ’’صدر جنرل‘‘ پرویز مشرف آتا رہا ہے۔ اس کی طرف تو کسی نے جوتا نہیں پھینکا۔ امریکیوں نے بندوقیں تان کے لوگوں کو منع کیا۔ پاکستانیوں کے ساتھ اب امریکہ کی اجازت سے بھارت یہ بھی کرے گا۔ لہٰذا ہمارے سیاسی اور فوجی آمر اور جابر حکمرانوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی بے تحاشا اور غیر ضروری سیکورٹی میں یہ احتیاط بھی رکھیں کہ کوئی جوتیاں نہ پھینکے۔ یہ تو اب احتجاج کی ایک شکل ہے پہلے جلوسیوں اور احتجاجیوں یعنی مظاہرین کے ہاتھوں میں جھنڈے ہوتے تھے۔ بینرز ہوتے تھے۔ اب جوتیاں ہوتی ہیں۔ جوتیوں کے ہار لوگ ہاتھوں میں لئے سڑکوں پر پھریں گے اور جن لوگوں کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالنے کا رواج تھا انہیں جوتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔ شاید ایسا وقت بھی آجائے کہ حکمران اپنی گردن خود جوتیوں کا ہار پہننے کیلئے جھکا دیں۔ سر جھکانے والوں کیلئے یہ کام بھی کوئی مشکل نہیں ہو گا۔
چینی وزیراعظم کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے تو بھارت کیلئے اب آسانی ہے کہ وہ پاکستان پر الزام لگا دے کہ چینی وزیراعظم پر جوتا پھینکنے کی سازش پاکستان میں دہشت گردوں نے تیار کی ہے۔ پاکستان اس معاملے میں بھی خاموشی اختیار کرے گا۔ جو کچھ بھارت پاکستان کے ساتھ کر رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں حکومت پاکستان کا رویہ ایک کمی کمین والا ہے۔ امریکہ کے بعد اب بھارت کی ہدایات پر پاکستان میں عمل ہو گا۔ جبکہ چین اور دنیا والے جانتے ہیں کہ یہ ساری کارروائی بھارت نے کروائی ہے اور اسے امریکہ کی امداد اور آشیرباد حاصل ہے۔
چینی وزیراعظم کے ساتھ اس واقعے کے بعد جوتا پھینکنے والے نوجوان کے ہمراہ تبت کے حوالے سے چین کی پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ تبت کے لوگوں کو چین سے آزادی حاصل کرنے کے بہانے تحریک چلائی جا رہی ہے اور پروپیگنڈا مہم جاری ہے۔ تبت کا جلاوطن لیڈر دلائی لامہ بھارت میں مسلسل مقیم ہے اور عیش کر رہا ہے۔ بھارت والے تبت والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا جو علاقہ چین میں ہے اسے آزاد کرالو۔ تم بھارت میں جس علاقے میں موجود ہو۔ وہ تمہیں تحفے میں میں دے دیا جائیگا۔
ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے بھی چین کے ساتھ بھارت دوستی کا ڈھونگ رچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے بھارت کو کسی تنقید کی پرواہ نہیں۔ کشمیر کی طرف سے بھی چین کی سرحد بھارت کے ساتھ ملتی ہے۔
چین نے جس طرح ایک سو برس کے بعد بغیر لڑے ہانگ کانگ لے لیا۔ وہ تائیوان اور تبت کیلئے بھی یہی پالیسی اپنائے ہوئے ہے مگر کوئی چینی وزیراعظم کی طرف جوتا پھینکے اور اسے بھی کسی مصلحت کی پالیسی کی نذر کر دیا جائے تو یہ بات بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ واقعہ خدانخواستہ پاکستانی حکمران کے ساتھ پیش آیا ہوتا بھارت اسے ممبئی حملوں کے ساتھ جوڑ دیتا اور ہماری حکومت حسب معمول بزدلی کا مظاہرہ کرتی تو سمجھ میں آنے والی بات ہے مگر چین اس واقعے کو یونہی نہیں چھوڑے گا۔ اس میں امریکہ اور بھارت تو شامل ہیں۔ تھوڑا بہت برطانیہ کا حصہ بھی اس میں ہے۔
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : ,

ملتان میں سیاسی رسہ کشی by Dr Ajmal Niazi

2 February, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ ایک شہر میں ہونے والے عوامی جلسوں کا موازنہ کرنے لگے ہیں۔ ملتان میں وزیراعظم مخدوم گیلانی اور چودھری پرویز الٰہی کے جلسے ہوئے۔ ملتان مخدوم صاحب کا اپنا شہر ہے اور وہ خود وزیراعظم ہیں۔ اس کے باوجود کئی لوگ کھلم کھلا یہ کہہ رہے ہیں کہ چودھری پرویز الٰہی کا جلسہ بڑا تھا۔ سکندر بوسن نے اچھا میلہ لگا لیا۔ اس بار پٹواریوں کو کیوں زحمت نہیں دی گئی۔ پارٹی کے جیالوں سے حساب لیا جائے کہ وہ بندوں کی صرف دو تین بسیں ہی لائے اور وہ بھی پوری بھری ہوئی نہ تھیں۔ جن کے پاس حکومت وغیرہ بھی نہیں۔ ان کے اچھے خاصے جلسے ہونا کس بات کی طرف اشارہ ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ مخدوم صاحب کو مجبور کیا گیا کہ وہ جلسے میں آئیں۔ اپنے شہر کا فائدہ ہوتا ہے تو نقصان بھی ہوتا ہے۔ مخدوم صاحب کو تو نقصان ہی ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو سیاسی ہے اور دوسری غیر سیاسی ہے۔ سیاسی وجہ یہ ہے کہ ملتان مخدوم شاہ محمود قریشی کا بھی شہر ہے؟ شہر تو یہ مخدوم جاوید ہاشمی کا بھی ہے مگر ان کا ڈیرہ ملتان سے تھوڑے فاصلے پر ہے۔ یہ تو معلوم ہے کہ مخدوم ہاشمی نے پنڈی والی نشست چھوڑ دی۔ وہ اپنے شہر کی نشست رکھنا چاہتے تھے۔ پنڈی والی سیٹ پر شیخ رشید کو ہرانے کیلئے شاید نوازشریف کے پاس ایک بہادر‘ سچے اور بہت مقبول آدمی مخدوم جاوید ہاشمی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ یہاں صرف نوازشریف کے نام پر ووٹ ملنے کی اتنی امید نہ تھی ورنہ شہباز شریف تو کہتے ہیں کہ اپنے علاقے سے بھی جیتنے والے ہمارے ٹکٹ پر جیتے ہیں یہ اچھی بات کہ جمہوریت میں جماعتی وابستگی بہت ضروری ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی والے آج بھی کہتے ہیں کہ ہمیں تو بھٹو کی وجہ سے ووٹ ملے۔ بینظیر بھٹو کی قربانی ہماری کامیابی کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا عنوان قائم رہنا چاہئے۔ اگر یہ بات تھی تو شیخ رشید کے مقابلے میں چودھری نثار کو کھڑا کر کے دیکھ لیا جاتا۔ اس پر بے پناہ نوازشات ہیں۔ یہ بندہ نوازی کیوں شامل نہیں کی گئی۔ حنیف عباسی تو خیر پنڈی کے تھے۔ پنڈی میں ان کی بہت عزت ہے۔ چودھری نثار واہ کینٹ سے ایم این اے ہوئے ہیں۔ یہاں وہ ’’آہ کینٹ‘‘ بن جاتے۔ ان کا تعلق کینٹ سے بڑا گہرا ہے۔ اسی لئے انہیں پسند کیا جاتا ہے۔ سینئر وزیر بھی انہیں بنایا جاتا ہے اور لیڈر آف اپوزیشن بھی انہیں بنایا جاتا ہے۔ ویسے بات ایک ہی ہے۔ یہ جو مسلم لیگ (ن) پر فرینڈلی اپوزیشن کا الزام آ رہا ہے تو اس کی حقیقت اور حکایت کیا ہے کہ چودھری نثار پیپلز پارٹی پر بہت تیز اور معنی خیز حد تک تنقید کرتے ہیں۔
چودھری نثار نے نوازشریف کو کہا تھا کہ جاوید ہاشمی پنڈی والی نشست اپنے پاس رکھیں جبکہ وہ آبائی حلقے مخدوم رشید سے ہارنے کے بعد اپنے شہر ملتان کے لوگوں کے ساتھ بے وفائی کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ یہ صورتحال چودھری نثار کیلئے بہت سازگار تھی۔ اس نے نوازشریف سے کہا کہ آپ لکھ کر جاوید ہاشمی کو ہدایت کریں۔ اس صورت میں بھی جاوید ہاشمی نے انکار کر دیا۔ جرأت انکار جرأت اظہار سے بڑی ہے۔ ان دونوں سے چودھری نثار واقف نہیں ہیں۔ وہ جس چیز سے واقف ہے۔ اس کے علاوہ اس سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ بات ملتان میں جلسوں کی ہو رہی تھی۔ ملتان میں ایک جلسہ میاں شہباز شریف کا بھی ہوا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ جلسہ کیسا تھا۔ مگر اس کی دو اہمیتیں بہرحال بہت ہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی جلسے سے خطاب کیا اور خطاب کے دوران شہباز شریف نے فرط جذبات میں مکا لہرایا اور سٹیج پر سے کئی مائیک نیچے جا گرے۔ صدر جنرل مشرف تو دو مکے لہرایا کرتا تھا اور کبھی سٹیج سے مائیک نہ گرا تھا۔ ثابت ہوا کہ سیاستدانوں کا مکا جرنیل کے مکے سے طاقتور ہوتا ہے۔ مگر سیاستدان یہ مکے بازی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ لیاقت علی خان نے مکا بھارت کو دکھایا تھا۔ ہم پاکستان کو دکھاتے ہیں۔ سنا ہے کہ وزیراعظم کا جلسہ بیس پچیس منٹ سے زیادہ کا نہ تھا۔ جس میں مخدوم صاحب کی تقریر صرف چار پانچ منٹ کی تھی۔ اتنے قلیل وقت کیلئے جلسے پر کروڑوں روپے لگا دیئے گئے۔ مقصد صرف یہ دکھانا تھا کہ وزیراعظم ہماری دعوت سے انکار نہیں کر سکتا۔ وہ لوگ یعنی افسران جو ہمارے کام نہیں کرتے‘ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور آئندہ کیلئے خبردار ہو جائیں۔ احتیاطاً اس دوران مخدوم صاحب کے ساتھ تصویر بھی بنوا لی گئی اور تمام ٹی وی چینلز کے لوگوں سے کہہ دیا کہ اس سنہری موقعے کی وڈیو ہمیں دے کر منہ مانگے دام وصول کئے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ کتنے بے وقوف ہیں جو اس طرح ’’وزیر اعظموں اور وزیر اعلاؤں‘‘ کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں۔ اس تصویر سے اپنی تقدیر سنوارنے کے جو معاملات وابستہ ہیں۔ اس سے ہمارے جیسے بے عمل بدقسمت اور ناتجربہ کار واقف ہی نہیں۔ آپ نے نہیں دیکھا کہ جتنی بار وزیراعظم مخدوم گیلانی لاہور آئے ہیں۔ بشیر ریاض کے بقول وہی چند ایک لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ اس طرح پارٹی کا تاثر اچھا نہیں پڑتا کہ پارٹی میں بھی یہی چند جیالے ہیں۔ ہمارے بھائی منیر احمد خان تو جیسے وزیراعظم کے ساتھ نتھی ہوئے ہیں۔ جیسے خان صاحب کے بغیر بے چارے وزیراعظم کو ڈر لگتا ہے۔ وزیراعظم نے خود رانا آفتاب احمد کو آگے بلایا۔ 
کسی نے چودھری پرویز الٰہی کو ملتان کے جلسے کی مبارکباد دی تو انہوں نے کہا کہ گجرات میں زمیندارہ کالج میں داخل ہو کے پولیس نے جس وحشیانہ اور بزدلانہ انداز میں تشدد کیا ہے۔ اس کا افسوس ہے۔ طلبہ کے ساتھ اساتذہ کو مارا پیٹا اور طالبات کے کمروں میں گھس گئے۔ یہ پولیس ہے جس کے ذریعے شہباز شریف گڈ گورننس کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ڈی آئی جی چیمہ صاحب کی پولیس ہے جس نے دہشت گردوں سے بڑے ڈاکو ننھو گورایہ کو راستے سے ہٹوایا۔ تو کیا پولیس ڈاکوؤں کے تعاقب میں کالج کے اندر گھس گئی تھی۔ ڈی ایس پی کو معطل کرنے سے کیا ہو گا۔ اصل ذمہ دار تو ڈی پی او گجرات ہے۔ جب سے وہ ایس پی سے ڈی پی او بنے ہیں بے لگام ہو گئے ہیں۔ لگام اور وردی میں فرق نہیں رہا۔
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : ,

صادق اور کاذب کا فرق سیاست میں نہیں…..بےنیاریاں

1 February, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
وفاداریاں تبدیل کرنے والے کسی رکن کو نااہل قرار دلانے میں جلدی کرنا چاہئے‘ کہیں ایسا نہ ہوکہ پھر اہل ہونے اور نااہل ہونے میں کوئی فرق نہ رہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پنجاب حکومت بدل جائے تو اُسے تیسری بار وفاداریاں تبدیل کرنا پڑیں گی۔ ایسے لوگ ہماری سیاست میں بہت ہیں‘ اب تو لوٹا ازم کلچر ہے‘ ایسے کسی آدمی سے پوچھا گیا کہ تم بڑی جلدی پارٹی تبدیل کر لیتے ہو‘ اس نے کہاکہ حکومت اپنی پارٹی بدل لیتی ہے‘ میں تو مستقلاً حکومتی پارٹی میں ہوں۔ وفادار اور مستقل مزاج۔
سنا ہے صبا صادق اب اپنی گاڑی پر ایم پی اے کی بجائے ’’موجودہ حکومت زندہ باد‘‘ لکھوانا چاہتی ہے۔ جو بھی حکومت ہو گی جیسی بھی ہو گی موجودہ تو ہو گی۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ میں جس طرح یہ چاہتا ہوں کہ نوازشریف نااہل نہ ہوں۔ بالکل اسی طرح چاہتا ہوں کہ ہر لوٹا نااہل ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ نوازشریف اہل دل بھی ہو جائیں‘ وہ ہیں مگر تھوڑے سے زیادہ ہو جائیں اور اپنے اہل ہونے کے لئے منتشر اور متصادم سیاست نہ کریں۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ یہ جج مجھے نااہل نہیں کر سکتے۔ وہ اب اس مقام پر ہیں کہ یہ اہلیت ان کے لئے پریشان کن نہیں ہونا چاہئے۔ وہ اب بھی قومی اسمبلی میں نہیں مگر وہ ایک بڑے لیڈر ہیں۔ وہ لیڈر بنیں سیاستدان نہ بنیں اور اپنے چھوٹے بھائی شہبازشریف کو سمجھائیں کہ دوست بنیں حاکم نہ بنیں۔ حکومت اور سیاست بہت معمولی چیزیں ہیں‘ ہم قائداعظمؒ کو کبھی سیاستدان نہیں کہتے نہ گورنر جنرل کہتے ہیں۔ وہ ان دونوں حیثیتوں کے مالک تھے مگر ان کی حیثیت اس کے علاوہ کچھ اور ہے۔ خدا کی قسم اہل ہونے سے اہل دل ہونا بڑا اعزاز ہے۔ ہر اعزاز کا ایک راز ہوتا ہے اور ہم اب راز کو اہمیت یا ’’اہلیت‘‘ دینے کو تیار نہیں‘ ہم صاحب راز ہونے سے زیادہ اعزاز ہونے کو ترجیح دیتے ہیں‘ ہم خواب کی اہمیت نہیں دیتے۔ خواب کی تعبیر کے پیچھے اندھادھند بھاگتے رہتے ہیں‘ پھر ہانپنا اور کانپنا ہمارا مقدر بن جاتا ہے۔
نجانے کیوں مجھے یقین ہے کہ آزاد عدلیہ ہمارے کسی سیاستدان یعنی حکمران کو راس نہیں‘ پھر یہ کیا ہو رہا ہے‘ جو بھی ہو رہا ہے۔ دونوں کے لئے ٹھیک نہیں۔ جب آدمی اقتدار میں ہو یا اقتدار کے انتظار میں ہو تو پھر سارا اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ چھانگا مانگا میں اور سوات میں ابھی درخت ہیں‘ یہاں وفاداری کے قیدخانے میں رہنے والوں نے کوئی تفریح عام لوگوں یعنی ووٹروں کے لئے نہیں رہنے دی۔ میریٹ ہوٹل بھی دھماکے کا شکار ہونے کے بعد شکاریوں کے لئے کھول دیا گیا ہے‘ وہی چکر چلنے والا ہے‘ بحالی اور بیحالی کا زمانہ آنے والا ہے۔
اس کا بڑا نقصان یہ ہے کہ سیاست میں صادق اور کاذب کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اپنی حکمرانی بچانے کے لئے سیاستدان سچے جھوٹے ورکر میں تمیز کرہی نہیں سکتے۔ جب صبا صادق مسلم لیگ ق میں گئی تھی تو غلط تھی۔ یہ ق اسی صادق والا ہے۔ جب وہ مسلم لیگ (ن) میں آئی ہے تو ٹھیک ہے۔
چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کامیاب اپوزیشن کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں وہ کامیاب حکومت کرتے تھے اور وردی وردی کرتے نہیں تھکتے تھے۔ جب صبا صادق مسلم لیگ ق میں آئی تھی تو انہوں نے پہلے سے موجود اپنی ساتھی خواتین سے زیادہ پذیرائی صبا صادق کو دی۔ تب اس کے بیانات نکلوا کے اُسے دکھائے جائیں۔ اس کے اب کے بیانات کسے دکھائے جائیں‘ اس کے خیال میں دونوں ٹھیک ہیں۔ تب صبا صادق کے سچے لیڈر چودھری پرویز الٰہی تھے اور اب اس کے اصل لیڈر شہباز شریف ہیں جبکہ اس کے محبوب لیڈر خواجہ سعد رفیق ہیں۔ خواجہ صاحب کامیاب سیاستدان ہیں تو صبا صادق بھی کامیاب سیاستدان ہیں۔ 
خواجہ صاحب زیادہ کامیاب ہیں کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو نہ چھوڑا‘ ان کی کامیابی اسی میں ہے۔ وہ مقرر بھی اچھے ہیں۔
عورت کے لئے سب سے بڑا رشتہ اور رتبہ بیوی کا ہوتا ہے اور بیوی کو احترام سے اہلیہ کہا جاتا ہے‘ کبھی مرد کو خاوند کے علاوہ اہل نہیں کہا جاتا۔ اہلیہ اور اہلیت کے لفظوں پر غور کر لیں۔ عورتوں کو مخصوص نشستوں پر آنے کے بعد وفاداری تبدیل کرنا بڑا عجیب لگتا ہے وہ ووٹ لے کے تو آئی نہیں ہوتیں۔ یہ تو صرف پارٹی کی نوازش ہوتی ہے۔ اکثر عورتوں پر بے جانوازش کی گئی ہوتی ہے۔ نوازش سے اشارہ نوازشریف کی طرف نہیں ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ اعتماد خواجہ سعد رفیق پر کیا جاتا ہے اور خواجہ سعد رفیق صبا صادق پر اعتماد کرتے ہیں۔ صبا صادق زیادہ قابل اعتماد ہے۔ پہلے مسلم لیگ ق اور اب مسلم لیگ (ن) اس کا دفاع کر رہی ہے۔ صبا صادق کے لئے موقع ہے کہ وہ دونوں لیگوں کو متحد کرنے کی کوشش کرے۔ اس نے کہا ہے کہ میرا دفاع رانا ثناء اللہ کی بجائے ظہیر الدین چودھری کو کرنا چاہئے تو پہلے اس کا دفاع راجہ بشارت کی بجائے رانا ثناء اللہ کو کرنا چاہئے تھا۔ خواجہ سعد رفیق دھڑلے کے آدمی ہیں۔ انہوں نے نہ تو صبا صادق کی بظاہر حمایت کی نہ مخالفت کی۔ یہی سیاست ہے۔ اب تک صبا صادق نے چودھری پرویزالٰہی کو بھی ناراض نہیں کیا۔ 
اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ایک بار ایسی کوثی مثال قائم ہو کہ سیاستدانوں کو لوٹا بنتے ہوئے چھوٹا موٹا خوف ہونا چاہئے۔ صبا صادق نااہل ہو تو کشمالہ طارق کو بھی احساس ہو گا۔ طارق اور صادق میں ق مشترک ہے۔
صبا صادق کو فارورڈ بلاک میں کیوں نہیں لیا گیا۔ صبا صادق عطا مانیکا سے زیادہ فارورڈ ہے۔
صبا صادق نااہل ہونے سے پہلے پہلے کسی اہلیت کا مظاہرہ کرے گی۔ ایک سگریٹ نوش جو چار پانچ دفعہ سگریٹ چھوڑ چکا تھا۔ شور و غل سن کر ذرا ڈسٹرب ہوا۔ اس سے کہا گیا کہ قیامت آنے والی ہے اس نے پہلے سے اطمینان سے سگریٹ سلگھائی ’’اس سے پہلے میں ایک سگریٹ تو پی لوں‘‘
Categories : Dr Ajmal Niazi, Urdu Columnists Tags : ,