Serfaraz Anwer
Aur Ab Bharet Bhi… by Serfaraz Anwer
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
![]()
دوست ہمیں کچھ سمجھانے ،کچھ پڑھانے کی کوشش کر رہا تھا ،آج ہی وہ بھارت میں اپنے رشتہ داروں سے مل کرپاکستان واپس آیا تھا اور وہا ں کے چند اخبارا ت اپنے ساتھ لے آ یا تھا ،یہی اخبارات اس نے ہمارے سامنے پھینک دئیے اور بولا ۔ٴٴدیکھو پڑھو اور سمجھنے کی کوشش کرو ، کیسے تمہارا نام نہاد ہمسایہ تیرے اور میرے دیس پہ کیچڑ اچھال رہا ہے مگر تیرے جیسے نام نہاد لکھاری بمعہ این جی اوز دونوں ممالک کے درمیا ن سرحدیں مٹانے کی شرمناک باتیں کر تے ہیں ۔ٴٴ
بھارتی اخبارات کا پلندہ ہمارے سامنے بکھرا پڑا تھا اور ہم اس کی ورق گردانی میں مشغول تھے مگر یہ جان کر سخت حیرت ہو رہی تھی کہ کرپٹ ترین اور بد امن بھارت کے نام نہاد دانشور بھی آج نہ صرف پاکستان پر ہنس رہے ہیں بلکہ ہماری حالتِ زار پرٴٴ نوحہ کناں ٴٴ ہیں ،بھارتی روز نامہ ٴٴانقلابٴٴ کے ادارتی صفحہ پرخالد شیخ نامی ایک لکھاری کا جو مضمون شائع ہوا اس میں کہا گےا کہ پاکستان کی بڑی بد قسمتی ہے کہ وہاں جمہور یت کو کبھی پنپنے نہیں دیا گےا ،جمہوریت کے نام پر اکثر جو حکومتےں بنیںان کے سربراہان نے پاکستان کو لوٹا ، رشوت اور جرائم کی گرم بازاری رہی ،نسلی اور مسلکی تشدد کو بڑھاوا ملا ،ہتھیاروں کی عام دستےابی اور اغوائ کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ،افغانستان سے روس کی بے دخلی کےلئے امریکا اور مغربی ممالک کی مالی امداد سے طالبان اور قبائلی سرداروں کی طاقت بڑھی ، حیرت اس بات کی ہے کہ مغرب کی اس جنگ کو ٴٴجہاد ٴ ٴسے تعبیر کیا گےا ،دہشتگردی نے پاکستان میںٴٴ انڈسٹری ٴٴکی شکل اختےار کر لی ،پرویز مشرف ایک ایسے آمر تھے جنہوں نے نواز شر یف کی منتخب حکومت برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا پھر کسی بھی صورت دستبردای کے لئے تےار نہ
ہوئے ،ایک المیہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی حکمران ہمیشہ امریکا کے زیرِ اثر رہے ،پرویز مشرف ،صدر بش سے وفاداری نبھاتے ہوئے تمام حدیں تجاوز کر گئے ، مشرف کی مجبو ر ی یہ تھی کہ وہ اپنی بقائ کے لئے امریکا کے محتاج تھے اور بش بہادرکی حکم عدولی کا حوصلہ نہ تھا ، دہشتگردی کی آڑ میں انہوں نے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ مسجدوں ،مدرسوں کو بھی نہ بخشا،مخا لفین کو ٹھکانے لگانے کی ضد میں تمام اصول و ضوابط کو طاق پر رکھ دیا ،بد عنوانی کے الزام میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی معزولی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جس میں ان کو منہ کی کھانا پڑی ،محترمہ بے نظیربھٹو کی واپسی پر ان کے استقبالی جلوس پربم حملہ اور بعد ازاں ان کی شہادت اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان میں کوئی محفوظ نہیں ، مشرف ،بے نظیر اور نواز شریف پاکستان کے سیاسی منظر نامے کے تےن اہم کرداررہے ،ان میں سے کوئی دودھ کا دھلا نہیں ،ہر اےک کے دامن پر بے شمار داغ ہیں ، دو قومی نظریہ اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت لہو لہان ہے ،وہاں اپنے ہی اپنوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں ۔۔۔ممبئی سے شائع ہونے والے اخبارٴٴ اردو ٹائم ٴٴمیں ڈاکٹر رضوان نامی ایک شخص نے ہمارا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سیاست کا منظر نامہ اتنی جلدی تبدیل ہو جاتا ہے کہ کسی مبصر کے لئے کچھ کہنا ممکن نہیں ہوتا ،جب تک کچھ کہنے کے لئے ذہن
سازی کی جائے، تب تک سارا ٴٴ سین ٴٴ بدل جاتا ہے ،مضمون نگار نے مزید مذا ق کرتے ہوئے پاکستان نیشنل سرائیکی پارٹی کے صدر حمید کانجو کے ایک پرانے بیان کو موضوع بنایا ،جس میں انہوں نے کہا تھا کہٴٴ دنیا کے سارے ممالک اپنی حفاظت کے لئے ایک فوج رکھتے ہیں مگر پاکستان کی فوج اپنے اقتدار کے لئے ایک ملک رکھتی ہے ٴٴانہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے پاکستان میں آمریت کی تاریک رات ختم ہونے کا نام نہیں لیتی جبکہ فی الوقت تو پاکستان کے عوام دہشتگر د ی کے ایسے حصار میں ہیں جسے تسخیر کرنا ان کے بس کی بات نہیں ۔اسی اخبار میں مونسہ بشریٰ عابدی نامی ایک خاتون نے ٴٴپاکستانٜ کرپشن زندہ بادٴٴ کے عنوان سے اپنے مضمون میں کہا کہ کیوں نہ پاکستانی پارلیمنٹ اب ایسا قانون پاس کرے جس کے تحت اسلامک ریپلک آف پاکستان میں کرپشن کے ٴٴادارہ جاتی فروغ ٴٴ کا باقاعدہ اہتمام کر دیا جا ئے ، انہوں نے الزام لگاےا کہ پاکستان میں ٴٴمفاہمتی آرڈیننسٴٴ جیسے قوانین کے ذریعے اکثر کرپشن کے بدترین مجرموں کو دودھ میں دھلایا نہیں بلکہ سر تا پا نہلایا جاتا ہے ، پا کستا نی فوج پر تنقید کرتے ہوئے موصوفہ نے لکھا کہ جب بھی حجام نے جنرل ضیائ کے بال کاٹنے ہو تے تھے تو وہ کسی نہ کسی بہانے الیکشن کانام لے لیتا تھا ،الیکشن کا لفظ سنتے ہی جنرل ضیائ کے بال کھڑے ہوجاتے تھے اور حجام آسانی سے ان کی حجامت بنا لیتا تھا ،انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرح سے ٴٴ مُشٴٴ یعنی پرویز مشرف کو بھی الیکشن سے الرجی تھی ،نہیں معلوم اس نام سے ان کے صرف رونگٹے کھڑے ہوتے تھے یا دورانِ خون بھی تےز ہوتا تھا ۔۔۔
صاحبو ٝ کسی بھی بھارتی اخبارکے اوراق پلٹ لیں ٝ ہر صفحے پر پاکستان کے خلاف ایسی ہی بے ہودگی کا مظاہرہ ملے گا ،ہم یہ نہیںکہتے کہ ہمار ے ہاں ایسی نوعیت کے مسائل نہیں ،یقینا ہمارا المیہ ہے کہ یہاں بار بار فوجی آمروں کا راج رہا ،کرپشن ،تشدد اور دیگر برائیاں بھی موجود ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارتٴٴ پوتّر ٴٴلوگوں کا دیس ہے ،جو ملک ساٹھ سالوں سے کشمیری عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالے بیٹھا ہو ،بے گناہوں کے خون سے آئے روز دھرتی لہو لہو کر رہا ہو ، جس کی فوج معصوم کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر اندو ہناک انسانیت سوز سلوک کررہی ہو ،درندگی کی ایسی مثالیں قائم کر رہی ہو کہ شیطان بھی اپنے ان چیلوں سے پناہ مانگنے پر مجبو ر ہو ،اس ملک کے نام نہاد دانشوروں کے منہ سے اس طرح کی باتےں زیب نہیں دیتیں ،جس ملک کی غاصب جمہوریت میں سکھوں او ر مسلما نوں پر ظلم و تشدد کی لازوال مثالیں قائم کی گئیں ہوں اور وزرائ اعظم کو قتل کیا جاتا رہا ہو ،وہاں کے لکھاریوں کے قلم سے ہم پر زہر اگلنا جاہلانہ فعل لگتا ہے ،
جس بھارت کے ہر دوسرے وزیر کی کرپشن کے چرچے عام ہوں ،صوبوں کے وزرائ اعلیٰ اپنی لوٹ مار کا خود اقرار کریں ،ایسے بدمعاش ملک کے پاگل ادیبوں کو ہم پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے ڈوب مرنا چاہئیے،جس ملک کی فلم انڈسٹری کا ہر ایکٹرٴٴ انڈر ورلڈ ٴٴ کا نمائندہ ہو ،ہر چوتھے شہری پر انڈر گرائونڈ تنظیموں کے ساتھ منسلک ہونے کی باتےں عام ہوں وہاں کے لکھنے والوں کو ہم پر قلم اٹھانے سے پہلے سو بار گریبان میں جھانکنا چاہیے ،حیر ت ہے کہ وہاں کے ادیبوں کے پاس اپنے ملک کی غربت ،بھوک اورتشدد ،بم دھماکوں ، نسلی و مذہبی فسادات پر لکھنے کے علاوہ بھی و قت ہے۔ ؟ اور سخت حیرت ہے کہ ایسے بدامن اور کرپٹ ملک کی فوج کو امریکا سمیت پورا یورپ افغا نستا ن میں ٴٴاہم کردارٴٴ دینے کی بات کر رہا ہے ۔ ؟؟؟سچ ہے ،یہ امریکا اور یورپ کی پاکستان بلکہ عالم ِاسلام کے خلاف انتہائی خوفناک اور گھٹیا سازش ہے ۔
Nawaz Sharif Saab… by Serfaraz Anwer
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
![]()
ستائیس دسمبر 2007کی شام محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تو عوام کے ساتھ ساتھ صحافی برادری بھی کئی روز تک افسردہ رہی ،لا ہور پریس کلب میں ہر آنکھ نم تھی،ہر چہرہ بجھا ہوا ،سوگ کا یہ عالم کہ ہم ایک دوسرے کے سامنے ہوتے لیکن کسی بھی بات یا خبر پر تبصرہ کرنے کی ہمت نہیں ،چپ چاپ ،گم سم اپنے اپنے اخبارات یا نیوز چینلز کے لئے فرائض کی ادائیگی اور بس۔۔۔مائیک کے سامنے بول لیا ،خبروں ، کا لمز ، اداریوں ،تجزیوں کے لئے قلم اٹھا لیا اور چپ چاپ بیٹھ گئے ۔۔۔یقینا صحافیوں کا دکھ دوہرا تھا کیونکہ ہم سب سوچ رہے تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید وفاق کی علامت تھیں ،ان کے بعد وفاق کا کیا بنے گا ۔؟ ملک متحد کیسے رہے گا ۔؟ہر کوئی دل ہی دل میں رورہا تھا،قلم کے ذر یعے ٴٴ کتھارسزٴٴ کر رہا تھا ، وفاق کی علامت کے باقی نہ رہنے کا دکھ کم نہیں ۔ہمارا دوسرا دکھ یہ تھا کہ محترمہ ہمارے پریس کلب کی ممبر تھیں ، ابھی چند روز پہلے ہی تو وہ ہم سے ملنے کلب آئیں تھیں ۔
افسوسٝ ہمارا ایک رکن شہید ہوگیا ،ہمیں دکھی کر گیا ، لاہور پریس کلب نے شہید بی بی کا بھر پور سوگ منایا ، ان کی غائبانہ نماز ِ جنازہ پڑھائی گئی ،قرآن خوانی کروائی گئی،ان کے نام کی ٴٴکینڈلز ٴٴجلائی گئیں لیکن دکھ تھا کہ کم ہی نہیں ہورہا ،شاید کبھی کم ہو بھی نا ۔شہید
بی بی کے جیالے پریس کلب کے گیٹ کے سامنے آرہے تھے ،دروازے سے ٹکریں اور دھاڑیںمار کر روتے تھے،کلب کے اندر کھڑے صحافیوں کی آنکھیں بھر آتی تھیں ،کسی کے منہ سے چیخ ،کسی کی سسکاری نکل جاتی تھی ،کوئی آہ بھر کر رہ جاتاتھا ۔۔۔سوگ ۔۔۔ سوگ ۔۔۔ بس سوگ تھا اور ہم تھے ۔ ایک روز ہم شہید بی بی کی سوچوں میں گم کلب کے ٹیرس پر بیٹھے تھے کہ ایک سینئرجرنلسٹ نے آکر پیچھے سے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ٴٴ نوجو ا ن ٝ کیا سوچ رہے ہو ۔۔۔؟؟؟ٴٴوہ بولے ،ہم نے گردن گھما کر ان کی طرف دیکھا اور احتراماََ کھڑے ہوگئے۔
ٴٴ بیٹھو بیٹھو ٝ میں بھی تمہا ر ے پاس بیٹھتا ہوں ۔ٴٴ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے ٴٴ اب بولوٝ کس سوچ میں ڈوبے ہو ۔؟ٴٴانہوں نے پھر پوچھا ۔
ٴٴ سرٝسوچ رہا ہوں کہ دنیا ویران ہو گئی ،ملک برباد ہو گیا ،خدا نخواستہ اگر سندھ میں نفرت کی فضائ ایسی ہی رہی تو ملک بکھر جائے گا ،بلوچستان اور سرحد میں پہلے ہی بغاوت کے شعلے بلند ہیں ،اب اگر سندھ میں بھی ایسا کچھ ہو گیا تو پاکستان کا نام دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا ، د شمنو ں کے ناپاک عزائم مکمل ہو جائیں گے اور ہم گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے ۔۔۔ٴٴہم نے افسردہ لہجے میں بتایا تو وہ بات کاٹ کر بولے۔
ٴٴ اوئے اوئے یہ کیا کہے جارہے ہو ،ہوش سے کام لو ٝ ایسا کچھ نہیں ہو گا ،انشائ اللہ پاکستان قائم رہے گا،دیکھو ٝ میری بات سنو ٝ یقینا شہید بی بی وفاق کو سنبھالنے والی عظیم خاتون تھیں ،ان کے ہوتے پاکستان کوکو ئی خطرہ نہ تھا ، وہ بلوچ سرداروں کو قومی دھارے میں لانے کا گُر جانتی تھیں اور خوددار پٹھانوں کو منانے کا بھی، لیکن انکی بات نہ کرو ،وہ اس معتبر خاندان سے تھیں جن کے افراد جیتے ہیں تو شان سے ، کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن کر،ملک و قوم کے لیڈر بن کر اور مرتے ہیں تو شہادت کا
رتبہ پاتے ہیں ،مر تو سب نے ہی جانا ہے ،آج نہیں تو کل ،دس ، بیس یا تیس سال بعد شہید بی بی نے بھی مر جانا تھا لیکن شہادت کا رتبہ کسی کسی کو ملتا ہے ،یہ مقام قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے ،یاد رکھو ٝ شہید کبھی مرتا نہیں ،یہ رب کا فرمان ہے ،شہید بی بی زندہ ہے ہم میںموجود ہے ،رہی بات پاکستان کی تو اسے سنبھالنے والے بہت ہیں ،بھٹو خا ندان کے بلاول ،بختاور ،آصفہ ، فاطمہ اور ذوالفقار جونئیر اسی لئے تو پیدا ہوئے ہیں ۔؟ ان سے بھی پہلے تمہارے پاس ایک ایسا لیڈر ہے جو ملک و قوم کو بچا سکتا ہے ،وہی لیڈر جس نے ایٹمی دھماکے کرکے بھٹو کے مشن کو آگے بڑھایا تھا اگر آج ہم بھول جائیں کہ وہ جنرل ضیائ کی گود میں پلا ہے تو وہ قوم کے لئے وہ سب کچھ کر سکتا ہے جس کی خواہش کرتے کرتے ذوالفقار بھٹو شہید ہو گیا اور دخترِ مشرق نے جان کا نذرانہ پیش کر دیا ،جان لو کہ آج نواز شریف وہ پہلے والے لاہوری لیڈر نہیں جو شہید محترمہ کے خلاف ڈس انفارمیشن پھیلاتے تھے ،تحریکِ عدم اعتما د لاتے تھے یا ان کے احتساب کے لئے مقدمات بنواتے تھے بلکہ پچھلے آٹھ سالوں نے انہیں بدل کر رکھ دیا ہے ،کندن بنا دیا ہے ،انہیں سمجھ آگئی ہے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ،سجن کون اور ملک دشمن کون،وہ جانتے ہیں کہ جمہوریت ملک کیلئے کتنی ضروری ہے۔
وہ جان گئے ہیں کہ بھٹو کیا تھے ،بھٹو ازم کیا ہے اور شہید بی بی کا ایجنڈا کیا تھا ،اسی لئے تو محترمہ کی شہادت پر بچوں کی طرح بِلک بِلک کر روئے ہیں ، اسی لئے تو سب سے پہلے ان کی میت کو کندھا دینے گئے ہیں ،اسی لئے تو دھکے کھاتے ،گالیاں سنتے گڑھی خدا بخش جا پہنچے ہیں ،یا د رکھو ٝ ملک بچانا ہے تو نواز شریف کو ملک کا سب سے بڑا لیڈر بنانا ہے ،انہیں مضبوط کرنا ہے، ماضی کو بھول کر مستقبل کا انحصاران پر کرنا ہے کیونکہ بے نظیر شہید کے بعد وفاق کی علامت صرف اور صرف نواز شریف ہیں ،اگر وہ ایٹمی دھماکے کر سکتے ہیں تو ملک کی خاطر ہر محا ذپر لڑ بھی سکتے ہیں ،دھیان سے سن لو ٝ آج کے بعد تم اور تمہارے سمیت تمام لکھاری انہیں صرف نواز شریف نہیں بلکہٴ محترم نواز شریف ٴلکھو ۔جی ہاں ٝ محترم نواز شریف ۔۔کیونکہ قوم کے لئے اور پاکستان کی بقائ کے لئے محترم نواز شریف بہت ضروری ہیں ۔۔ٴٴ
صاحبوٝ یقین کیجئے کہ ہم سینئر صحافی کی ان باتوںسے بہت پر امید ہوئے تھے اور سوچنے لگے تھے کہ نواز شریف پاکستان کی ٴٴڈانواںڈو لٴٴ کشتی سنبھال لیں گے مگر افسو س کہ اس گفتگو کو 10مہینے ہونے کو آئے لیکن میاں صاحب کا ایک بھی ایسا قدم دیکھنے کو نہیں ملا جو انہوں نے ملک و قوم کی خیر خواہی میں اٹھایا ہو ،یہ سچ ہے کہ انہوں نے جنرل مشرف کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے آصف علی زرداری کا ساتھ دیا مگر جیسے ہی مشرف استعفیٰ دے کر گھر گئے جناب میاں نواز شریف بھی رائیونڈ فارم جا کر سو گئے ،انہیں گلہ ہے کہ صدرِپاکستان آصف زرداری نے ان کے ساتھ کئے وعدوں سے انحراف کیا مگر ہمارے سمیت پوری قوم سوچ رہی ہے کہ کیا نواز شریف صاحب ایک آصف زرداری کے وعد ے وفا نہ کرنے پر ہم سب کو نظر انداز کر دیں گے ۔۔۔؟؟؟
پیارے میاں صاحب ٝہم نے آپ کو ٴٴمحترمٴٴ رکھنا ہے ،پلیزٝ ٴٴجاتی عمرہ ٴٴ سے باہر آئیے اور دیکھئے کہ آپ کے پاکستان کو کئی جان لیوا مسا ئل کا سامنا ہے ، ملک بحرانوں کی زد میں ہے ،ان مسائل اور بحرانوں کوحل کرنے کے لئے حرکت میں آئیے ٝ چاہے اس کے لئے صدر آصف علی زرداری کا ایک ایک وعدہ ہی کیوں نہ بھولنا پڑے ۔؟براہ ِکرم آصف زرداری کو ٴٴبے وفاٴٴ محبوب سمجھ لیجئے اور ملک و قوم کے لئے میدانِ عمل میں اتر آئیے


