Other
بھارتی جنگی عزائم اور ہماری موثر جوابی تیاریاں
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
امریکہ اور برطانیہ کے دبائو اور پاکستان کی طرف سے ممبئی حملوں میں ملوث نہ ہونے کے درست موقف کی وجہ سے کانگریس حکومت اگرچہ پاکستان کی حکومت اور اس کے کسی ادارے کو بری الذمہ قرار دے چکی ہے اور اب اس نے مطلوبہ افراد حوالے کرنے کا مطالبہ بھی چھوڑ دیا ہے لیکن پاکستان کے خلاف الزام تراشی جاری ہے اور گزشتہ روز وزیرخارجہ پرناب مکرجی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان نے دو ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ سامنے لانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا جس کے بعد ہم دیگر آپشنز پر غور کرسکتے ہیں۔ پرناب مکرجی نے تو وزیراعظم من موہن سنگھ کی علالت کاذمہ دار بھی پاکستان کو قرار دیا کیونکہ ان کے بقول پاکستان کی طرف سے عدم تعاون کی بنا پر ڈاکٹر من موہن کی ٹینشن میں اضافہ ہوا اور نوبت بائی پاس تک پہنچی۔ شکر ہے بھگوان کی دیا سے وہ زندہ ہیں ورنہ انکی مرتیو بھی ہمارے کھاتے میں پڑتی۔ بی جے پی ماضی میں دو بار اقتدار میں آچکی ہے اور آئندہ الیکشن میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے بھرپور مہم چلا رہی ہے جس میں پاکستان مخالفت کا عنصر سب سے نمایاں ہے بی جے پی موجودہ کانگریسی حکومت پر بھی دبائو بڑھا رہی ہے کہ وہ پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس کرکے ممبئی حملوں کا بدلہ لے جبکہ بھارتی آرمی چیف دیپک کپور کے بیان سے لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کی سوچ بھی اس سے مختلف نہیں۔ آخر اس نے بھی الیکشن لڑنا ہے۔
بھارت پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے یا کم ازکم اسے ایک خطے کے دیگر چھوٹے ممالک کی طرح اپنی زیردست ریاست بنانے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہا ہے اور اس نے ہر چھوٹے بڑے واقعہ کو پروپیگنڈا مہم کے ذریعے پاکستان کے خلاف استعمال کیا ہے پاکستان میں میریٹ ہوٹل کا بم دھماکہ کہیں زیادہ شدید‘ سنگین اور افسوس ناک تھا جس میں نہ صرف ہوٹل تباہ ہوا بلکہ درجنوں افراد جاں بحق ہوئے مگر پاکستان نے اسے بھارت کے خلاف استعمال نہیں کیا عالمی برادری نے بھی اس واقعہ پر ہمدردی کا وہ مظاہرہ نہیں کیا جو ممبئی حملوں کے حوالے سے دیکھنے کو ملا حالانکہ واقعہ کے فوراً بعد یہ اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ بھارت اس میں ملوث ہے اور دھماکہ میں استعمال ہونے والا ٹرک ایک ملک کے سفارت خانے سے نکلا‘ معلوم نہیں حکومت پاکستان نے کیوں اور کس کے دبائو میں پر چپ سادھ لی اور اس نے ممبئی حملوں کے بعد معذرت خواہانہ لب و لہجہ اختیار کرکے بھارت کو سر پر چڑھا لیا اب بھی ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ممبئی حملوں کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے پر پاک بھارت کشیدگی کم ہوگی اور جامع مذاکرات کا عمل شروع ہو جائیگا۔
گزشتہ روز لندن میں پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن نے یہ بیان دیا کہ ہماری تحقیقات میں کوئی پاکستانی شہری ملوث نہیں پایا گیا تو وزیراعظم نے اس بیان کو جلد بازی قرار دیا جبکہ بھارتی جنتا پارٹی کے سربراہ کے بیان کو محض انتخابی مہم کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور کی دھمکی تو ہر لحاظ سے سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے کہ فوج پاکستان پر حملے کیلئے تیار ہے اور سیاسی حکومت کے اشارے پر جنگ شروع ہوسکتی ہے۔ اگر بھارت جنگ سے بچنے کا خواہش مند ہوتا تو فوج کو مکمل تیاری کی ضرورت نہیں تھی اور اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے باوجود کہ نہ تو جنگ سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور نہ ایک ایٹمی قوت سے جنگ اتنی آسان ہے جنگ کی تیاری کا مطلب ہے کہ بھارت کے عزائم شرپسندانہ ہیں اور وہ موقع ملتے ہی مکمل جنگ نہ سہی سرجیکل سٹرائیکس کرسکتا ہے لہٰذا کسی قسم کی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں اور امریکہ و برطانیہ کی یقین دہانیوں پر اعتماد کرنے کی بھی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ماضی میں 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں بھی انہی دونوں ممالک کی یقین دہانیوں کی وجہ سے ہم نے نقصان اٹھایا۔
لہٰذا بہتر یہی ہے کہ عالمی سطح پر سفارت کاری کو مزید تیز کیا جائے۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں بھارتی مداخلت کے ثبوت عالمی اداروں اور برادری کو فراہم کئے جائیں۔ دو روز قبل لاہور میں جو بھارتی جاسوس گرفتار ہوئے ہیں انہیں قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے سامنے لا کر بھارتی سازشوں کا پردہ چاک کیا جائے اورقومی اتحاد و یکجہتی کیلئے تمام اقدامات کرکے جنگی تیاریوں پر توجہ مرکو ز کی جائے کیونکہ بھارت کسی بھی وقت شرارت کرسکتا ہے اور ہمیں بھی تیاری مکمل رکھنی چاہئے تاکہ بھارت کو منہ توڑجواب دینے میں آسانی ہو۔ حکومت اپنی صفوں میں بھی اتحاد پیداکرے اور انتشار و اختلاف کی جو کیفیت نظر آتی ہے اس پر قابو پائے جبکہ قوم کو بھی دفاع وطن کیلئے تیار کیا جائے بھارت میں وار ہسٹیریا کم نہیںہوا اس لئے ہمیں بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں ۔ مضبوط اور موثر دفاعی تیاریاں ہی بھارت کو حملے سے باز رکھ سکتی ہیں۔ بی جے پی کے سربراہ راجہ ناتھ سنگھ اور بھارتی آرمی چیف دیپک کپور کے تازہ بیانات کو سیاسی اور عسکری قیادت کسی صورت نظر انداز نہ کرے۔
یہ وقت محاذ آرائی کا نہیں
بھارت کے عزائم کے پیش نظر ملک میں سیاسی استحکام اور اتحاد و یکجہتی از بس ضروری ہے اور ایک اخباری رپورٹ کے مطابق حکمران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین ڈیڈ لاک توڑنے اور معاملات کے سیاسی حل کے لئے بعض غیر سیاسی حلقے سرگرم ہو گئے ہیں جو دونوں جماعتوں کے ذمہ داران کو باور کرا رہے ہیں کہ اگر اس مرحلہ پر سیاسی قیادت نے ذمہ داری کا ثبوت نہ دیا اور اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا نہ کی تو اس کے مضر اثرات مرکزی اور پنجاب حکومت پر پڑ سکتے ہیں جبکہ یہ صورتحال جمہوری سسٹم کے علاوہ ملک کے لئے بھی اچھی نہیں ہو گی۔ یہ غیر سیاسی حلقے دونوں جماعتوں کے قائدین کو اس امر پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پہلے مرحلہ میں بالواسطہ مذاکراتی عمل شروع کر لیا جائے اور بعد ازاں طے شدہ امور پر دونوں جماعتوں کے ذمہ داران فیصلوں کی توثیق کر دیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرف کی جرنیلی آمریت کے دوران پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے جمہوریت کی بحالی اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جس اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور آزاد و خود مختار عدلیہ اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی تحریک کا ساتھ دیا اس کی بنیاد پر ہی قوم نے 18 فروری کے انتخابات میں انہیں قومی مفادات کے منافی مشرف کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا مینڈیٹ دیا جس کا تقاضہ یہی تھا کہ بہترین قومی مفادات اور جمہوریت کے استحکام کی خاطر قومی سیاسی جماعتوں میں پیدا ہونے والے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھا جاتا اور اس مقصد کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ کئے گئے وعدوں اور طے کئے گئے معاہدوں کی پاسداری کی جاتی مگر حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت کے طرزعمل اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اصولی مؤقف برقرار رکھنے پر اصرار نے حکومتی اتحاد میں ان دونوں جماعتوں کے مابین فاصلوں کی خلیج کھڑی کردی جو اب بڑھتے بڑھتے ایک دوسرے کے ساتھ عدم برداشت والی محاذ آرائی تک جا پہنچی ہے جس سے ایک تو سیاسی جمہوری استحکام کی فضا نہیں بن پائی اور دوسرے ہماری اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے تاک میں بیٹھے ہمارے مکار دشمن بھارت کو بھی ہماری سالمیت پر وار کرنے کے لئے شہہ مل رہی ہے۔ یقیناً اسی پس منظر میں ملک کی مسلح افواج کے سربراہوں نے اپنے اجلاس میں ملک کی سلامتی کے حوالے سے قومی، علاقائی اور عالمی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک کی موجودہ نازک صورتحال اپنے قومی سیاسی قائدین بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادتوں سے بھی اس امر کی متقاضی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کا پہلے والا جذبہ پیدا کریں اور وسعت نظری اور فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے اصولی مؤّقف اور مجبوریوں سے بالاتر ہو کر ملکی و قومی مفاد کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ افہام و تفہیم سے کام لیں اور باہمی محاذ آرائی کو انتہا تک پہنچا کر وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام اور ملک کے لئے خطرات پیدا نہ کریں۔ اگر قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمران پیپلز پارٹی معزول ججوں کی بحالی، عدلیہ کی آزادی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے طے پانے والے میثاق جمہوریت معاہدہ بھوربن اور گذشتہ سال 5 اگست کے معاہدہ اسلام آباد کو عملی جامہ پہنا دے تو سیاسی محاذ آرائی کی صورتحال ازخود ختم ہو جائے گی جبکہ میاں نوازشریف کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے سخت گیر مؤّقف میں نرمی پیدا کریں۔ شرائط اور مطالبات میں مثبت پیش رفت کی گنجائش نکالیں تاکہ تاک میں بیٹھے ہمارے شاطر دشمن کو ہماری جانب سے قومی اتحاد و یکجہتی کا پیغام جا سکے۔ اگر ہماری سیاسی قیادتوں نے اب بھی فہم و ادراک سے کام نہ لیا تو وہ سسٹم اور ملک کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری سے خود کو نہیں بچا سکیں گے۔
سٹیٹ بنک کی نئی مانیٹری پالیسی
سٹیٹ بنک نے رواں مالی سال کی دوسری ششماہی کیلئے شرح سود 15 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں گورنر سٹیٹ بنک سلیم رضا نے گزشتہ روز پریس بریفنگ میں افراط زر کو معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ معیشت پر افراط زر کا دبائو ابھی تک برقرار ہے۔ ان کے بقول گزشتہ تین چار ماہ کے دوران مہنگائی کے تمام اعشاریوں میں کمی آئی ہے تاہم مہنگائی میں اضافہ کرنے والے عوامل اب بھی موجود ہیں۔
تاجر برادری اور اقتصادی ماہرین نے سٹیٹ بنک کی جاری کردہ اس نئی مانیٹری پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے ملک میں بیروزگاری بڑھے گی۔ سٹیٹ بنک کی پالیسی کے تحت اس وقت قومی بنکوں کی جانب سے اپنے کھاتہ داروں کیلئے جو حوصلہ شکن حالات پیدا کئے جا رہے ہیں اس کے پیش نظر لوگوں میں مختلف بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے اور بنک اکائونٹس میں اپنی رقوم منتقل کرنے کے رحجان میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ اگر سٹیٹ بنک کی یہی پالیسی برقرار رکھی گئی تو ملک میں ایک نیا مالیاتی بحران پیدا ہوسکتا ہے جبکہ اس وقت قومی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا موقع دینے کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاروں‘ تاجروں‘ کسانوں کیلئے بنکوں کی جانب سے مختلف سہولتوں کی فراہمی بشمول فراہم کردہ قرضوں پر شرح سود میں کمی کے اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ قومی بنک اپنے کھاتہ داروں سے تو تمام سہولتیں واپس لے رہے ہیں۔ چیک بک تک کے حصول کیلئے انہیں بنکوں کے ہیڈ آفس کراچی کا مرہون منت بنا رہے ہیں‘ ان کے بنک اکائونٹس پر منافع اور سود کی شرح میںمسلسل کمی کر رہے ہیں جبکہ اپنے فراہم کردہ قرضوں کی شرح سود میں اضافہ در اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال بنکوں کے کھاتہ داروں اور بنکوں کے قرض پر سرمایہ کاری کرنے والے کاروباری طبقات دونوں کیلئے حوصلہ شکن ہے جس سے قومی معیشت میں ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔ جبکہ سٹیٹ بنک کی پالیسیوں کے نتیجہ میں ہی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ گورنر سٹیٹ بنک خود اعتراف کر رہے ہیں کہ مہنگائی میں اضافہ کرنے والے عوامل اب بھی موجود ہیں۔
اندریں حالات سٹیٹ بنک کی مانیٹری پالیسی کو قومی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تباہی کے دہانے پر پہنچی ہوئی قومی معیشت کو سنبھالا دیا جاسکے اور افراط زرپر قابو پا کر اقتصادی ترقی کا پہیہ رواں کیا جاسکے۔
عدنان سمیع خان باز نہیں آئے گا
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
میڈیا کے مطابق اس انتہائی موٹے گوئیے نے اپنی انتہائی سمارٹ اور خوبصورت بیوی کو تھپڑوں‘ لاتوں اور گھونسوں سے اس بری طرح ’’سرفراز‘‘ کیا کہ وہ بیچاری چیختی چلاتی‘ روتی ہکلاتی تھانے جا پہنچی۔ اس نے اپنے شکایتی بیان میں بتایا ہے کہ اس کا شوہر نشے کا عادی اور نیم پاگل ہے۔ تھانیدار نے اسے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا مشورہ تو دیا ہے مگر یہ بھی یقیناً پوچھا ہو گا کہ بی بی جب تم اس پونے پانچ من کی مصیبت کو گلے ڈال رہی تھیں‘ تو کیا اس وقت تمہیں عارضہ چشم لاحق تھا یا تم خود اذیتی کے مرض میں مبتلا تھیں۔ یہ بات اتنے وثوق کے ساتھ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ تقریباً اسی قسم کا سوال ہم نے آج سے تقریباً آٹھ سال ادھر زیبا بختیار سے پوچھا تھا۔ زیبا کو عدنان سمیع خان کی پہلی بیوی ہونے کا ’’شرف‘‘ حاصل ہے۔ ہم اور ہمارے چند صاحب نظر دوست (ہمارے ایک دو دوست اس قماش کے بھی موجود ہیں) زیبا کا شمار ان انتہائی خوش نما خواتین میں کرتے ہیں جو بہت کچھ (یعنی انتہائی تعلیم یافتہ‘ امیر اور خوبصورت) ہوتے ہوئے بھی بلا کی بدنصیب واقع ہوئی ہیں۔ ہمارے یہی دوست ایک زمانے میں انبساط خان کو بھی اسی فہرست میں شامل کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے مگر پھر اچانک اس خاتون نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر ق لیگ کو اپنا لیا اور وزارت کی آس لگا لی‘ مگر چودھری پرویز الہٰی چونکہ خوش شکل خواتین کی سیاست میں دلچسپی کے سخت خلاف ہیں‘ اس لئے انہوں نے آخری وقت تک جس طرح کشمالہ طارق کو ترسائے رکھا‘ اسی طرح انبساط خان کو بھی وزارتی ٹرک کی بتی کے پیچھے بھگائے رکھا۔ نتیجتاً بیچاری انبساط فرط غم میں موٹی ہونے لگی اور یوں ہمارے دوستوں نے اسے مذکورہ فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
زیبا بختیار کے ساتھ ہم ایک مختصر مدت کے پراجیکٹ پر کام کرنے کی غرض سے کراچی گئے تو ہمارے اندر تحریک یہی تھی کہ اس سے عدنان سمیع خان والے ازدواجی حادثے کے جملہ اغراض و مقاصد معلوم کریں گے۔ چنانچہ ہم نے چھٹتے ہی یہ سوال داغ دیا۔ اس وقت یہ بی بی اداکار سعود کے ساتھ اپنی کوئی عجیب الخلقت سی فلم بنانے میں بری طرح مصروف تھیں۔ ہم سے فلم بارے رائے طلب کی گئی اور ہم نے عرض کیا کہ جس حد تک ہم کہانی اور دیگر معاملات کو سمجھ پائے ہیں‘ یہ فلم باکس آفس پر صرف بارہ گھنٹے ہی نکال پائے گی۔ ہماری اس بدشگونی کی سزا یہ رہی کہ موصوفہ کے ساتھ وہ ہماری آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ بہرحال‘ ہمارا اندازہ کافی حد تک غلط ثابت ہوا کیونکہ فلم نے باکس آفس میں بارہ گھنٹے تو درکنار شائد بارہ منٹ بھی نہیں نکالے اور ایک دردناک انجام سے دوچار ہوئی۔ زیبا اس کے بعد فلموں سے غالباً ہمیشہ کے لئے کنارہ کش ہو گئی اور ہماری اطلاع کے مطابق اس نے اپنی زندگی میں روحانیت کے رنگ بھر لئے ہیں اور علم و فضل کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ وہ علامہ جاوید احمد غامدی کے ادارے المورد سے اپنی علمی پیاس بجھاتی ہے۔ چنانچہ ہم نے ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر اس اطلاع پر یقین کر لیا کہ وہ جتنی خوش و خرم آج ہے‘ اتنی شاید پہلے کبھی نہ تھی۔
بالی وڈ کی تازہ اطلاعات کے مطابق ایک تیسری خاتون جو شومئی قسمت سے عدنان سمیع کے ساتھ ’’راہ و رسم‘‘ بڑھا چکی تھی‘ اس واقعے کے بعد کافی پرتشویش نظر آنے لگی ہے۔ اغلب یہی ہے کہ حالیہ بیگم اب مزید زدوکوب ہونا برداشت نہ کرے اور بذریعہ عدالت طلاق حاصل کر لے۔ تاہم اس بات کا امکان بھی خاصا روشن ہے کہ مذکورہ تیسری خاتون بھی مستقبل کے فیصلوں پر نظرثانی کر کے اپنے آپ کو عبرتناک انجام سے بچا لے کہ اسے اب سمجھ لینا چاہئے کہ یہ حرکت اس حیرت انگیز حد تک عجیب الخلقت فنکار کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ ہمارے یہی صاحب نظر دوست چودھری پرویز الہٰی کو بھی یہی مشورہ دینا چاہ رہے ہیں کہ آصف علی زرداری کے ساتھ راہ و رسم پیدا کرنے سے اجتناب ہی برتیں تو بہتر ہے کہ آپ کو پرویز مشرف اور نواز لیگ دونوں کے انجام سے ڈرنا چاہئے۔ زرداری صاحب مشرف سے ملنے والے این آر او کے بل پر آج کہاں سے کہاں جا پہنچے اور بیچارا پرویز مشرف آج امریکہ میں غزلیں گا گا کر زندگی کے دن پورے کرتا پھر رہا ہے۔ وہاں پر موجود پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں پرانے جوتے لئے اس کم نصیب کی تلاش میں ہے۔
میاں نواز شریف نہ تو جج بحال کروا سکے اور نہ ہی ایوان صدر کو زرداری کی دست برد سے بچا سکے۔ سترھویں ترمیم ان کے دل میں آج بھی کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے جبکہ نااہلی کی تلوار دونوں بھائیوں کے سر پر الگ سے لٹک رہی ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ زرداری صاحب پنجاب کو نواز لیگ کے ہاتھ سے چھین لیں گے اور یہ سانحہ بہت جلد رونما ہو جائے گا۔ چنانچہ ہمارے فکرمند دوستوں کا چودھری پرویز الہٰی کے لئے متفکر ہونا بنتا ضرور ہے کیونکہ عدنان سمیع خان اپنی حرکتوں سے کبھی باز نہیں آئے گا!!
بالآخر عدنان سمیع کا انجام کیا ہوتا ہے اس سے ہمیں غرض نہیں!
Help Gaza – Give 5 Minutes
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
![]() |
|
||||
Images of “Most Dangerous Terrorist” killed by Isreal |
|||||
First one is A very active member of resistance troops |
|||||
He is all terror |
|||||
Second one was using his legs to run which cause a lot
|
|||||
Third one was hunted with her family by a concentrated
|
|||||
Fourth one is active member of Aksa Troops |
|||||
House of some terrorists have been bombed by accurate air strike |
|||||
Fifth one is one of dangerous members of Kassam Troops |
|||||
Some terrorists were hunted down by smart bombs |
|||||
Terrorists brothers and sisters |
|||||
Seventh terrorist has been hunted down by apache |
|||||
Let her cry for her family |
|||||
The most dangerous terrorists ever |
|||||
| Thanks to the Sabbah Blog *** PLEASE SPREAD WIDELY *** After the successful email campaign, it’s time to move to the next level: calling some of the war criminals. |
|||||
Objectives of this campaign are as follows:
Let’s start with war criminal, Mark Regev, International Media Adviser to the Prime Minister. His MOBILE number is: +972-5-0620-3264 and his office number is +972-2670-5354 If you like to follow your call/sms with an email, use this one: mark.regev@it.pmo.gov.il Second war criminal, Shlomo Dror in the Ministry of Defence. His MOBILE number is +972-5-0629-8148, office number is +972-3697-5339, fax number is +972-2670-5602 As before, if you like to follow it up with an email, use this: mediasar@mod.gov.il Third war criminal is Major Liebovitz from the Israeli Navy His MOBILE number is +972-5-781-86248 If you know or come across any mobile number of any Israeli war criminal, please send it to (info@pkcolumns.com) so that I can update the list here. Meanwhile, you can bombard the top war criminal, Olmert and his office assistance, managers, spokesperson, etc… Please visit the following page to select the name that you like to play with and pick his/her office number and/or fax number. http://www.pmo.gov.il/PMOEng/PM+Office/Contacts/ Note: To call or fax any in the above list, remove the “zero” and add +972 (Israel Int’l code) before the number. (Example: Ehud Olmert’s phone number is 02-670-5555 will become +972-2-670-555, fax number is 02-670-5475 will become +972-2-670-5475) I suggest that you put your feelings on paper either by drawing or as a letter (in any language, in fact using other than English language will keep them busier and waste more of their time, which we want) and fax it to the maximum fax numbers you find there, but phone calls are still very important if you can. More? Yes, you can do more. Call or fax the current Knesset members. Go to the following link, select any name and you will find their phone and fax numbers. Again, to call or fax any, remove the “zero” and add +972 before the number. (Example: Benjamin Netanyahu (a.k.a. Bibi the butcher!) phone: 02-6408456 will become +972-2-6408456 and his fax number is 02-6496659 which becomes +972-2-6496659) Knesset members: http://www.knesset.gov.il/mk/eng/mkindex_current_eng.asp?view=0 Also Knesset Directory (add +9722 before the numbers you find here): http://www.knesset.gov.il/description/eng/eng_directory.htm To: The Israeli Ministry of Defense, Fax: +972-3-697-6717 To: The Israeli Ministry of Foreign Affairs, Fax +972-2-5303367 Last but not least, share a copy of your fax with others. Please post your fax on this flickr group: http://www.flickr.com/groups/fax-israel/ PS. Feel free to do the same with any and all pro-Israel war on Gaza. You can start with: White House (although they are busy backing up there files, but we can only hope that Obama will get something to read and learn about on his first day in office) :http://www.whitehouse.gov/contact/ The Congress (which justed gave Israel new green light to kill kids and women of Gaza):http://www.visi.com/juan/congress/ https://writerep.house.gov/writerep/welcome.shtml Be creative! Search for the contacts of your government official’s website and contact them. Save Gaza! Remember, Silence is Complicity! Israeli mobile numbers start with the following codes:
Source: http://www.nstelcom.com/support/codes_il.htm ==== Update: Here is a list of most terrorist Israeli officials. Feel free to bombard them with your words of condemnation and pictures of their war crimes. [Hat tip: Shadia] Just copy the entire list into your TO or CC list and send them all an email Shimon Peres (president@president.gov.il); Ehud Olmert – Prime Minister (eulmert@knesset.gov.il); Ehud Barak – Deputy Prime Minister , Minister of Defense (minister@mod.gov.il); Tzipi Livni – Acting Prime Minister , Minister of Foreign Affairs (zlivni@knesset.gov.il); Abraham Dicter – Minister of Internal Security (adichter@knesset.gov.il); Ariel Atias – Minister of Communications (aatias@knesset.gov.il); Binyamin (Fouad) Ben-Eliezer Minister of National Infrastructure(binyaminb@knesset.gov.il); Eli Aflalo – Minister of Immigrant Absorption (eaflalo@knesset.gov.il); Eliyahu Yishai – Deputy Prime Minister , Minister of Industry, Trade, and Labor (eyishay@knesset.gov.il); Gideon Ezra – Minister of Environmental Protection (gezra@knesset.gov.il); Isaac Herzog – Minister of Welfare and Social Services, Minister of the Diaspora, Society, and Fight Against Antisemitism (iherzog@knesset.gov.il); Jacob Edery – Minister of the Development of the Negev and Gal); (yedri@knesset.gov.il); Meir Sheetrit – Minister of Internal Affairs (mshitrit@knesset.gov.il); Raleb Majadele – Minister of Science, Culture, and Sport (gmagadla@knesset.gov.il); Ruhama Avraham Bal);a – Minister of Tourism (ravraham@knesset.gov.il); Shalom Simhon – Minister of Agriculture and Rural Development (ssimhon@knesset.gov.il); Shaul Mofaz – Deputy Prime Minister , Minister of Transportation and Road Safety(shaulm@knesset.gov.il); Ze’ev Boim – Minister of Housing and Construction (zaevb@knesset.gov.il); Haim Ramon – Vice Prime Minister (ChaimR@knesset.gov.il); Rafi Eitan – Minister of Pensioner Affairs – (reitanhantman@knesset.gov.il); Ronnie Bar-On – Minister of Finance (rbaron@knesset.gov.il); Yacov Ben Yizri – Minister of Health (ybenyizri@knesset.gov.il); Yitzhak Cohen – Minister of Religious Services (izchakec@knesset.gov.il); Yuli Tamir – Minister of Education (ytamir@knesset.gov.il); Majalli Whbee – Deputy Minister of Foreign Affairs (mwahaba@knesset.gov.il); Matan nai – Deputy Minister of Defense – (matanv@knesset.gov.il); Meshulam Nahari – Minister Without Portfolio (mnahari@knesset.gov.il); Benjamin Netanyahu (bnetanyahu@knesset.gov.il); Ehud Olmert – Prime Minister (pm_eng@pmo.gov.il); Raanan Dinur – Director General Of the Prime Minister’s Office (pm_eng@pmo.gov.il); Ovad Yehezkel – Government Secretary (pm_eng@pmo.gov.il); Ya’akov Galanti – Head of Communications Division and Media Adviser to the Prime Minister (pm_eng@pmo.gov.il); Shalom Tourgeman – Foreign Policy Adviser for Prime Minister (MEDINI@IT.PMO.gov.il); Amnon Ben-Ami – Deputy Director General (amnon.benami@it.pmo.gov.il); Tzahi Gavrieli – Personal Assistant to the Prime Minister (TzahiG@it.pmo.gov.il); Shlomit Barnea Farago – Legal Adviser (legal@pmo.gov.il); Joseph Strauss – Accountant (J.strauss@it.pmo.gov.il);Marit Danon – Director of the Authority for the Advancement of the Status of Women (women@it.pmo.gov.il); Uzi Keren – Adviser to the Prime Minister (Settlement Affairs) (Uzi.Keren@it.pmo.gov.il); Hagar Biran – Advisor to the Prime Minister for Liaison with the Knesset (hagar.biran@it.pmo.gov.il); Ruti Avramovitz – Pub);c affairs Adviser to the Prime Minister (pm_eng@pmo.gov.il); Ofer Levy – Adviser to the prime minister for official visits and special events (PMO.HEB@it.pmo.gov.il); Yael Nachmias – Head of the Division for policy Implementation (Yael.Nachmias@it.pmo.gov.il); Gavriel Golan – Adviser to the Prime Minister for Planning and Development (pm_eng@pmo.gov.il); Mark Regev – International Media Adviser to the Prime Minister (Gali.Cohen@it.pmo.gov.il); Rachael Risby-Raz – Diaspora Affairs Adviser (risbyraz@it.pmo.gov.il); Gal Alon – Adviser for Strategic Development (gal.alon@it.pmo.gov.il); Julia Braya – Adviser to the Prime Minister for the Russian Languge Media (pm_eng@pmo.gov.il); Edna Halbani – Director of International Visits – (edna@it.pmo.gov.il); Vered Swid – Adviser to the Prime Minister (Social Affairs) (Vered.Swid@it.pmo.gov.il); Avi Widerman – Adviser to the Prime Minister (aviw@it.pmo.gov.il); David Baker – Senior Foreign Press Coordinator (david.baker@it.pmo.gov.il); Yehiel Nizri – Director of the Prime Minister’s Bureau (Central Region) (yehiel_nizri@walla.co.); Avigdor Liberman (aliberman@knesset.gov.il); Ami Ayalon (aaylon@knesset.gov.il); Amir Peretz (aperetz@knesset.gov.il); Abraham Hirchson(ahirshson@knesset.gov.il); Alex M);ler (am);ler@knesset.gov.il); Amira Dotan (adotan@knesset.gov.il); Amnon Cohen (amncohen@knesset.gov.il); Arieh Eldad (aeldad@knesset.gov.il); Avishay Braverman(abraverman@knesset.gov.il); Avraham Michaeli(amichaeli@knesset.gov.il); Avraham Ravitz(aravitz@knesset.gov.il); Avshalom V);an(av);an@knesset.gov.il); Benyamin Elon(belon@knesset.gov.il); Chaim Amsellem(eamsalem@knesset.gov.il); Chaim Oron(horon@knesset.gov.il); Colette Avital(avitalk@knesset.gov.il); Dalia Itzik(yor@knesset.gov.il); David Azoulay(dazulay@knesset.gov.il); David Rotem(drotem@knesset.gov.il); David Tal(davidt@knesset.gov.il); Dov Khenin(dhanin@knesset.gov.il); Effie Eitam(efye@knesset.gov.il); Eitan Cabel(ecabel@knesset.gov.il); Elhanan Glazer(eglazer@knesset.gov.il); Eliahu Gabbay(egabai@knesset.gov.il); Esterina Tartman(etertman@knesset.gov.il); Gideon Sa’ar(gsaar@knesset.gov.il); ad Erdan(gerdan@knesset.gov.il); Haim Katz(hkatz@knesset.gov.il); Isaac Ben-Israel(itzik@knesset.gov.il); srael Hasson(ahason@knesset.gov.il); Itshac Galantee(ygalanti@knesset.gov.il); Izhak Ziv(yziv@knesset.gov.il); Lia Shemtov(lshemtov@knesset.gov.il); Limor Livnat(llivnat@knesset.gov.il); Marina Solodkin(msolodkin@knesset.gov.il); Mazor Bahyna(mazorb@knesset.gov.il); Meir Porush(mporush@knesset.gov.il); Menahem Ben-Sasson(mbensason@knesset.gov.il); Michael Eitan(meitan@knesset.gov.il); Michael Melchior(melchiorm@knesset.gov.il); Moshe Kahlon(mcachlon@knesset.gov.il); Moshe Gafni(mgafni@knesset.gov.il); Moshe Sharoni(msharoni@knesset.gov.il); Nissan Slomiansky(nslomianski@knesset.gov.il); Nissim Zeev(nzeev@knesset.gov.il); Ophir Pines-Paz(pinespaz@knesset.gov.il); Otniel Schneller(oschneller@knesset.gov.il); Ran Cohen(rancohen@knesset.gov.il); Reuven Rivlin(rrivlin@knesset.gov.il); Robert );atov(r);atov@knesset.gov.il); Ronit Tirosh(rtirosh@knesset.gov.il); Sara Marom Shalev(smarom@knesset.gov.il); Shachiv Shnaan(shanans@knesset.gov.il); Shai Hermesh (shermesh@knesset.gov.il); Shelly Yacimovich (syechimovich@knesset.gov.il); Shlomo (Neguse) Molla (smolla@knesset.gov.il); Shmuel Halpert (shmuelh@knesset.gov.il); van Shalom (sshalom@knesset.gov.il);Sofa Landver (slandver@knesset.gov.il); Stas Misezhnikov (smiseznikov@knesset.gov.il); Tzachi Hanegbi (zhanegbi@knesset.gov.il); Tzvia Greenfield (tzviag@knesset.gov.il); Uri Maklev (umaklev@knesset.gov.il); Uri Yehuda Ariel (uria@knesset.gov.il); Yakov Litzman (ylitzman@knesset.gov.il); Yakov Margi (ymargi@knesset.gov.il); Yisrael Katz (yiskatz@knesset.gov.il); Yitzhak Aharonovitch (iaharon@knesset.gov.il); Yitzhak Levy (ithakl@knesset.gov.il); Yitzhak Vaknin (yvaknin@knesset.gov.il); Yoel Hasson (yhasson@knesset.gov.il); Yohanan Plesner (yohananplesner@knesset.gov.il); Yoram Marciano (ymarziano@knesset.gov.il); Yosef Shagal (yshagal@knesset.gov.il); Yuli Yoel Edelstein (yedelstein@knesset.gov.il); Yuval Steinitz (ysteinitz@knesset.gov.il); Zahava Gal-On (zgalon@knesset.gov.il); Zeev Elkin (Zelkin@knesset.gov.il); Zevulun Orlev (zorlev@knesset.gov.il);Zvi Hendel (zhendel@knesset.gov.il) |
|||||
Gaza Key Felesteeni…
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

America Ki Shikeset
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook


Job Aur Kaam
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook

Fatwa For Amir Liaquat
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
[flashvideo filename="http://www.payingitbackward.org/videos/fatwa_for_amir_liaquat.flv" /]

Amir Liaqat Ka Asli Chehra
Print This Post
|
Email This Post
|
Share on Facebook
Download videos at the following urls

Download videos at the following urls
Download Video With Comments


















