Bushra Rehman

دل جلائو کہ … روشنی کم ہے ؟ by Bushra Rehman

1 February, 2009 (0) Comment   |  Print This Post Print This Post   |  Email This Post Email This Post   |    Share on Facebook
’بچائو پاکستان مہم‘‘ کے سرگرم رکن جناب منظر بشیر کا طویل خط مجھے ملا ہے جس کا عنوان ہے۔ ’’وسائل کی فراوانی اور بجلی کا بحران‘‘ وہ لکھتے ہیں ’’ بجلی کی بندش خانہ جنگی کیلئے عوام اور حکومت اور فوج کو آپس میں لڑا کر ملک توڑنے اور اسے اپاہج بنانے کی سازش ہے جس کے ساتھ دشمن کا جنگی جنون ہمارے سر پر کھڑا ہے۔‘‘ 
پھر انہوں نے پاکستان کی زمین پر اور زمین کے اندر موجود تمام وسائل کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ مثلاً زمین‘ پانی‘ آب و ہوا‘ بے شمار قسم کے اجناس ‘ بے شمار لذیز قسم کے پھل اور خشک میوہ جات ہیں۔ پاکستان میں بے شمار دھاتیں ہیں مثلاً نمک‘ ابرک‘ لوہا‘ تانبا‘ کرومائٹ‘ سیمنٹ کا پتھر‘ پٹرول اور اس کے لوازمات وغیرہ … پاکستان میں ایٹم موجود ہے۔ اس کی جزئیات کا سامان موجود ہے۔ پاکستان میں ہر قسم کے ڈاکٹر‘ عالم فاضل اور سکالر موجود ہیں۔
لکھتے ہیں ’’چاروں صوبوں کے لاکھوں ٹن کوئلے کے ذخائر کو استعمال کر کے ہمارے انجینئر بجلی بناکر پاکستان جیسے دس ملکوں کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ پنجاب سندھ بلوچستان اور سرحد کے ریگستانی میدانوں سے ہمارے انجینئر سورج سے توانائی حاصل کر سکتے ہیں۔ قدرت نے ہمیں بلوچستان میں 24 گھنٹے چلنے والی ہوا سے نوازا ہے جس پر ہمارے انجینئر اپنی ٹربائنیں بنا کر بجلی حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے اندر وافر بجلی موجود ہے۔ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خشک و تر اور برفانی پہاڑوں سے گرم و ٹھنڈے پانی کے چشمے جو پہاڑوں میں چالیس پچاس میل کا سفر کر کے نیچے پہنچتے ہیں ان میں آزاد کشمیر کے چشمے اور دریا‘ کے ٹو کے برفانی پہاڑ‘ فاٹا کا علاقہ‘ سوات‘ بلوچستان‘ پنجاب کے چشمے‘ شاہراہ ریشم کے ساتھ بہتے دریا اور ندی نالے ہیں۔ اس کا سٹارٹ پوائنٹ سے زمین تک کا فاصلہ کئی سو میل بنتا ہے جہاں پر ہر آدھے میل پر ٹربائنیں فٹ کر کے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ بجلی بنانے کے مذکورہ بالا ذرائع کروڑوں اربوں روپے کا بجٹ نہیں مانگتے نہ بیرونی امداد کی بھیک مانگتے ہیں نہ کالا باغ ڈیم کی طرح سالہاسال تک نقشے اور رپورٹیں مانگتے ہیں۔ کیا ایسے ملک کو دوسروں کا دست نگر ہونا چاہئے جس کے پاس بجلی بنانے کے بے شمار متعلقہ ذرائع موجود ہوں۔ تجربہ کار انجینئر ‘ مستری اور میٹریل بھی موجود ہو۔ قوم کے کروڑوں افراد بجلی کی نایابی اور لوڈشیڈنگ پر اتنے تنگ ہوں کہ لاکھوں پاور لومیں‘ خراد مشینیں‘ کارخانے اور چھوٹی مشینیں بند پڑی ہوں اور چار کروڑ سے زیادہ بیروزگار لوگوں کا خودکشی اور بغاوت کی جانب رجحان بڑھتا جا رہا ہو۔ ملک کی ہر معدنی آئٹم کو پروسیس کر کے بائی پراڈکٹس تیار کریں اور سب مل کر پاکستان کو اس بحران سے نکالیں … امید ہے ہمارا میڈیا بھی ان گزاراشات کو ملک اور قوم کی خاطر مختلف طریقوں سے اُجاگر کرتا رہے گا۔‘‘
منظر بشیر صاحب ! 
میں نے آپ کے خط کے چیدہ چیدہ حصے قارئین کی خدمت میں پیش کر دئیے ہیں۔ پاکستان کے اندر ہر پیشے اور ہر ہنر کے ماہرین موجود ہیں۔ ہر شہر اور ہر فیکٹری میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ دیانت دار اور محبِ وطن کاریگروں کی کمی بھی نہیں ہے۔ وہ آپ کی تجاویز پڑھ بھی لیں گے اور ان کی تفاصیل کو بھی ازخود جان لیں گے۔ لیکن ان سے کام کون لینا چاہتا ہے اور اگر وہ اور آپ یہ سب جانتے ہیں تو خود اٹھ کھڑے کیوں نہیں ہوتے۔ آپ ’’بچائو پاکستان کی مہم‘‘ صرف تحریروں اور باتوں سے کیوں چلانا چاہتے ہیں۔ یہاں تو ہر تیسرا آدمی اپنی ہتھیلی پر مشورہ مفت لئے پھرتا ہے۔ آپ بھی مشورے دے رہے ہیں۔ اب مشوروں کا وقت نہیں ہے ان تمام لوگوں کی ایک کھیپ تیار کریں جو ان سب کاموں میں ماہر ہیں اور پرائیویٹ طور پر کام شروع کر دیں۔ حکومتیں یہ سب کرنے کے اہل نہیں ہوتیں۔ ان کے پاس بھی بہت ہوتے ہیں لیکن زیادہ کام ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ ہوتے ہیں یا کروائے جاتے ہیں۔ ہم بھی ایک عرصہ سے پارلیمنٹ کے اندر پن بجلی اور سولر انرجی کی بازگشت سن رہے ہیں۔ ایک بجٹ بھی مخصوص کیا جا رہا ہے … مگر کیا ہو رہا ہے‘ کیا ہو رہا ہے … نظر تو کچھ آ نہیں رہا اور سمجھ بھی کچھ آ نہیں رہا۔ جمہوری حکومتیں اپنی زیادہ انرجی اپنے قدم جمانے اور اپنے مہربانوں کو خوش کرنے میں صرف کرتی ہیں … جب تک کہ وہ کچھ کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔ چل چلائو کا وقت آجاتا ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ کے اندر بھی بہت دفعہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اٹھایا گیا اور پھر لوڈشیڈنگ کا بھی ایک ٹائم ٹیبل یا سلیقہ ہوتا ہے۔ یہاں نہ تو وقت مقرر ہے نہ کوئی دن یہاں جس وقت جب چاہے بجلی چلی جاتی ہے گیس اڑ جاتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس صورتحال سے لوگوں کے اندر غم و غصہ اور بغاوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ بہت سے شہروں میں احتجاجی جلوس نکلے اور ٹائر وغیرہ جلائے گئے۔ دل جل رہا ہے تو آدمی سب کچھ جلانے پر آمادہ ہو جاتا ہے لیکن ہماری بھاری اکثریت والی جمہوری حکومت کے پاس ایک ہی جواز ہے اور ایک ہی جواب ہے کہ یہ سب مسائل ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ سوچا جائے کہ پرانی حکومت 16 نومبر 2007ء کو ختم ہو گئی تھی اور نگران حکومت آ گئی تھی تب بھی ایسا بحران نہ تھا۔ یہ بحران 28 دسمبر 2007ء کے بعد پیدا ہوا … یا پیدا کیا گیا … کیا یہ سازش ہے یا نالائقی ہے … 
تاہم کروّفر کے ساتھ آنے والی حکومت کو ایجنڈا تو مسائل حل کرنے کیلئے دیا جاتا ہے۔ اپنی مجبوریوں اور لاچاریوں کا اظہار مہمل کرنے کیلئے نہیں دیا جاتا۔ ایک سال ہونے کو آیا کوئی ایک مسئلہ تو حل کر دیتے … اور کیا موجودہ حکومت کی نزدیک کی نظر کمزور ہے کہ اسے نہ تو ملکی وسائل نظر آ رہے ہیں نہ معدنیات نہ موسم نہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نہ ان وسائل کو عوام کیلئے عام کر دینے والے ماہرین ہی نظر آ رہے ہیں۔ کیا اس ملک کے غریبوں کے مسائل صرف بینظیر سپورٹ کارڈ سے حل ہو جائیں گے … کیا یہ رقم خرچ کر کے غریبوں کی غربت دور کرنے کے مستقل انتظامات نہیں ہو سکتے تھے …؟
بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے … مسائل کچھ لوگوں کیلئے خوشحالی کے وسائل بن جاتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ جنریٹر اور یو پی ایس کا استعمال کس قدر عام ہوگیا ہے۔ پہلے باہر سے منگواتے تھے اب اپنے ملک کے اندر بننے لگے۔ جن لوگوں نے ذہانت استعمال کر کے اس بزنس میں ہاتھ ڈال دیا تھا وہ کیوں چاہیں گے کہ بجلی کی کمی پوری ہو… زراعت کا پہیہ چلنے لگے … اور گونگی مشینیں بول اٹھیں … اور ان کے وارے نیارے ختم ہوجائیں۔
ایسے کاروباری لوگوں کے مہربان بعض اوقات سرکاری بنچوں پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ ان کی پشت پناہی بھی کرتے رہتے ہیں …
اس ملک کے اندر بعض اوقات ایک دوست کو فائدہ پہنچانے کیلئے کسی انڈسٹری کو برباد کر دیا جاتا ہے بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی … اب بھی یہ ملک اپنے قدموں پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ اس بار بھی گندم کی فصل ضرورت سے زیادہ ہوئی ہے۔ تو کیا عوام کی خاطر سمگلنگ رک جائے گی … کیا آٹا سستا ہوجائے گا… زراعت کی طرف توجہ مبذول کی جائے گی۔ 
جی نہیں … کسی کی منزل مقصود آزاد عدلیہ اور دھرنا ہے۔ کسی کا مطمع نظر اپنی سی کرنا ہے … کوئی وعدوں کی رسی کے ساتھ لٹکا ہوا ہے … کوئی ارادوں کی امربیل کو پانی دے رہا ہے … پھر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ملک چل رہا ہے …
یہ ملک اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے بنایا ہے اور وہ اسے اپنے کرم سے بچاتا بھی رہے گا۔ بدنیت لوگوں سے اور بدنظر دشمنوں سے…
آپ منظر صاحب یوں کریں کہ جتنی خوبصورت اور کارآمد تجاویز آپ نے خط میں لکھی ہیں ان کو پیس کر ان کا ایک سفوف بنائیں اور یہ سفوف سارے ملک میں تقسیم کر دیں اور اہل اقتدار کو خصوصی طور پر گھول کر پلا دیں تو شاید وہ جذبے برآمد ہوجائیں جن کی آپ میں اور ہم سب تمنا کر رہے ہیں ؎
وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلائو بڑا اندھیرا ہے!
Categories : Bushra Rehman Tags :